Monday, July 13, 2020

Gilgit Baltistan..Misused of Law


گلگت  بلتستان میں انسداد دہشت گردی قانون کا بے جااستعمال
                  21جون  2018ء کو گلگت  بلتستان کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین باب کا اضافہ ہوا۔ اس دن حکومت پاکستان نے گلگت  بلتستان میں قانون انسداد دہشت گردی کی شق شیڈول فور کا نا جائز اور بے جا استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں امن پسندشہریوں سے آزادی سے زندگی گزارنے کا حق چھین لیا۔حکومت پاکستان نے انسداددہشت گردی کا قانون  پاکستان  میں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لینے کے لئے بنایا تھا تا کہ امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔ لیکن حکومت اس قانون کوغیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر متنازعہ گلگت  بلتستان میں حقوق کی بات کرنے والے سیاسی رہنماؤں اور سوشل میڈیا کارکنوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ گلگت  بلتستان میں شیڈول فور میں شامل افراد پر کئے گئے غیر جانبدار نہ تحقیقات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ گلگت  بلتستان میں اس قانون کا اطلاق نہ کالعدم مذہبی و سیاسی جماعتوں پر ہو رہا ہے ا اور نہ ہی  دہشت گردوں پر ہورہا ہے بلکہ شیڈول فورمیں ڈالے گئے افراد گلگت  بلتستان کے عوام کی بنیادی حقوق کے لئے موثر آواز اٹھا نے والے پرامن سیاسی رہنما ہیں۔ ابتدائی طور پر حکومت نے 183 افراد کو شیڈول فور میں ڈالا تھا،  ان میں سے اکثریت انفرادی اور اجتماعی طور پرگلگت  بلتستان کے حقوق کے لئے آواز اٹھا نے والے سیاسی و سماجی کارکن تھے۔ ان پر امن شہریوں کوکسی بھی مذہبی و دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہ ہونے کے باوجود بھی شیدول فور میں خانہ پوری کے لئے شامل کئے گئے تھے، تاکہ ریاستی ادروں کا خوف ان کے دلوں پر چھائے رہے اور ضلعی سطح پر بنائی گئی کمیٹی کے آٖفیسران اپنی کارکردگی دکھا کر ترقی و انعامات حاصل کر سکے۔ کچھ لوگوں کو ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پربھی شیڈول فور میں ڈالے گئے او کچھ لوگوں کو ذاتی و خاندانی دشمنی، سیاسی مخالفت، سرکاری اداروں کے لئے سہولت کاری نہ کرنے کے پیش نظر شیڈول فور میں شامل کئے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
                شیڈول فور کی لسٹ پر کی گئی تحقیقات کے بعد انتہائی ہو شرباء انکشابات بھی سامنے آئے ہیں۔ گلگت  بلتستان میں سولین کاشیڈول فور میں نام ڈالنے اور نام نکالنے کا  اختیارسول انتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔ محکمہ پولیس گلگت  بلتستان کے سابق سربراہ ثنا ء اللہ نے شیڈول فور کی لسٹوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ سال  بیان دیا تھا کہ شیڈول فور میں شامل تمام بے گناہ افراد کو نکال دیا جائے گا  کیونکہ ان افراد کے خلاف کسی بھی تھانے میں کسی بھی قسم کی معمولی شکایت تک نہیں تا ہم اعلیٰ قوتوں کی سخت مخالفت اور مداخلت کی وجہ سے انہیں فہرست میں خاطر خواہ کمی لانے میں کامیابی نہیں ملی۔ پچھلے دو سال سے شیڈول فور سے نام نکالنے کے لئے سرکاری خفیہ اداروں کی مختلف لوگوں کے ساتھ ڈیل بھی چلتی رہی ہے۔ کافی لوگوں کو خفیہ ڈیل کے بعد شیڈول فورسے نکال لئے گئے ہیں اور ان سے عہد لیا گیا کہ وہ گلگت  بلتستان کی قومی اشیوز پر کسی بھی قسم کی سیاست نہیں کریں گے۔ حکومتی اقدامات کے خلاف کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے اورگمنامی کی زندگی گزاریں گے۔ سرکاری سطح پر بھی اس بات کا اعتراف کیا  جا رہاہے کہ شیڈول فور کا گلگت  بلتستان میں استعمال غلط ہوا ہے اس لئے، شیدول فور سے اب تک تقریبا  200  سے زیادہ افراد کو بے گناہ قرار دے کر نکالے جا چکے ہیں جو کہ اس قانون کی بے جا استعمال کا  منہ بولتا ثبوت ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ماؤرائے قانون ایک حلف نامہ بنایا ہے جس پر دستخط کرنے والوں کو بھی شیڈول فور سے نکالا جاتا ہے۔ یہ حلف نامہ جنیوا کنونشن اور آ ئین پاکستان کے دفعات سے متصادم ہیں جس میں مبینہ طور پر لوگوں کو حق رائے دہی، حق تنظیم سازی، حق اظہار رائے، حق ملازمت اور حق آزادی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
                گلگت اور دیامر ڈویژنز سے کافی تعداد میں قومی مذہبی و سیاسی رہنماؤں، ماہرین تعلیم، سماجی کارکنوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹز کو شیڈول فور میں ڈالے گئے تھے ان میں سے بعض افراد پر سی پیک کے خلاف سازش کے الزمات کے تحت مقدمات بھی بنائے گئے تاہم اس وقت ان میں سے بیشتر کو قید و بند کی اذیت دینے کے بعد بے قصور قرار دے کر رہا کر دئیے ہیں اور ان کے نام شیڈول فور سے بھی خارج کئے گئے ہیں۔ اور اب بھی بہت سے سیاسی کارکنوں کو شیدول فور پر رکھا جا رہا ہے تاکہ انہیں معاشی طور پر کمزور کر کے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو دبایا جا سکے اور انہیں عوامی حقوق کی جد و جہد سے دور رکھا جا سکے۔ گلگت ڈویژن سے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ حسنین رمل، راجہ میر نواز میر، کرنل (ر) نادر حسن، ابرار بگورو،،یاور عباس، شیخ موسیٰ کریمی، شیخ شبیر حکیمی،دیدار علی، عنایت عبدالی، راجہ میر  نواز میر، یاور علی اور دیگر کئی سماجی و سیاسی کارکنوں کو عوامی حقوق کی ایک موثر آواز بننے کی جرم میں مسلسل شیڈول فور میں ر کھے جا رہے ہیں۔
                بلتستان ڈویژن سے  پانچ سرکردہ قومی رہنماؤں کو شیڈول فور میں ڈالے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی فرد کا کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ ان افراد کو شیڈول فور میں شامل کرنے کی بنیادی وجہ  بلتستان ڈویژن کی ضلعی شیڈول فورکمیٹی کے ممبران کی ذاتی خواہش بتائی جاتی ہے۔ بلتستان ڈویژن کو پر امن اور دہشت گردی سے پاک خطہ ہونے کی تاثر کو زائل کرنے کے لئے ضلعی کمیٹی نے ان افراد کو شیڈول فور میں ڈالنے کی سفارش کی تھی حالانکہ متعلقہ تھانوں اور سپیشل برانچ کی ڈیلی ڈائری میں بھی ان افراد کا کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایت یا مقدمہ نہ ہونے کی رپورٹ سامنے آئی تھیں۔
                بلتستان ڈویژن سے سید آغا علی رضوی،جنرل سکریٹری ایم ڈبلیو ایم، منظور پروانہ سابق صدر بلتستان سٹوڈینس فیڈریشن و چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ، شہزاد آغا ضلعی صدرپاکستان پیپلز پارٹی، شبیر مایار رہنماء  بلتستان یوتھ الائنس، شیخ  محمد علی کریمی رہنماء ایم ڈبلیو ایم شیڈول فور میں شامل ہیں۔ سید علی رضوی گلگت  بلتستان میں حکومت مخالف احتجاج کا سر غنہ اور ایک نڈر عوامی لیڈر ہے، گندم سبسڈی دھرنا اوراینٹی ٹیکس مارچ میں علی رضوی کی قائدانہ صلاحیت سے حکومت خوف زدہ ہیں اس لئے شیڈول فور پر رکھا ہوا ہے۔ شبیر مایار، شیخ کریمی اور غلام شہزاد آغا بھی مزاحمتی تحریکوں کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں جبکہ منظور پروانہ ایک حق پرست و قوم پرست رہنماء ہیں وہ سکردو حلقہ فور سے انتخابات میں بھی حصہ لیتے ہیں، منظور پروانہ،  بلتستان اسٹوڈینس فیڈریشن کا صدر رہ چکا ہے۔منظور پروانہ گلگت  بلتستان کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی قدآ ور شخصیت ہیں، منظور پروانہ کوعوامی حقوق کی جد وجہد کو عالمی سطح پر متعارف کرانے، گلگت  بلتستان میں کرپشن، اقربا پروری، انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے پرشیڈول فور میں ڈالا گیا ہے۔ وہ گزشتہ بیس سالوں سے گلگت  بلتستان کے عوامی حقوق کے لئے سرگرم ہیں۔ ان کے بینک اکا ؤنٹ منجمد کئے گئے ہیں، شناختی کاڑد بلاک اور پاسپورٹ ضبط کئے گئے ہیں اور ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، ان کو انتخابی سیاست سے باہر رکھنے کے لئے بھی شیڈول فور کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
                انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان گلگت  بلتستان کی آٹھ مذہبی جماعتوں کو دہشت گردی کے شبہ میں کالعدم قرار دے چکی ہیں، ان آٹھ مذہبی جماعتوں کے سر کردہ رہنماؤں، سہولت کاروں اور کارکنوں کو شیڈول فور میں نہیں ڈالا گیا ہے انہیں اپنی سرگرمیاں کرنے کی کھلی آزادی دی ہوئی ہیں،بلکہ ان کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کو گلگت  بلتستان اسمبلی میں اہم عہدوں پر فائز کئے گئے ہیں۔روز نامہ باد شمال میں ۱۱ مئی 2019  ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حکومت نے کالعدم جماعتوں کے ان رہنماؤں کو پارٹی تبدیل کرنے کی صورت میں اپنے عہدوں پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے یہ بات ثا بت ہو تی ہے کہ کوئی بھی کالعدم جماعت کا رہنماء یا رکن،مسلم لیگ یا پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر کے محفوظ راستہ حاصل کرسکتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گلگت  بلتستان میں کالعدم تنظیموں کی حکومتی سرپرستی جاری و ساری ہیں۔
                گلگت  بلتستان کے قوم پرست رہنماؤں کو بھی  اس طرح کے دباؤ کا سامناہے۔ضلع غذر سے بی این ایف اور بی این ایس او کے کافی کارکنوں کو پی پی پی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ میں شامل ہونے کے بعد شیڈول فور سے نکالے گئے ہیں۔ شیڈول فورکو پارٹی وفاداریاں تبدیل کروانے  کے لئے بھی موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ گلگت  بلتستان میں کالعدم اور دہشت گرد قرار دیئے گئے کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کے کارکنوں کو شیڈول فور میں نہیں ڈالے گئے ہیں۔ سانحہ کوہستان، سانحہ یادگار چوک گلگت اور سانحہ چیلاس میں ملوث مشکوک دہشت گرد بھی شیڈول فور سے آزاد ہیں، دیامر میں سرکاری سکولوں کو جلانے اور کارگاہ نالہ میں پولیس جوانوں کو شہید کرنے والے کمانڈرز بھی شیڈول فور میں شامل نہیں تھے۔ اس سے بڑی انکشاف یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد علی خراسانی جس کا تعلق گلگت  بلتستان سے بتایا جاتا ہے اس کا نام بھی شیڈول فور کی لسٹ میں کبھی شامل نہیں کیا گیاہے۔
انسداد دہشت گردی کا قانون آئینی و قانونی طور پر کسی بھی صورت ایک متنازعہ خطے میں نافذ نہیں کیا جا سکتا، اس قانون کے اطلاق کا مقصد صرف اور صرف نو آبادیاتی نظام حکومت کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کو کچل دینا ہے تاکہ حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو  دہشت گردی سے جوڑ کردبایا جا سکے، اور گلگت  بلتستان کے عوام کی بنیادی و انسانی حقوق کی آواز عالمگریت حاصل نہ کر سکے۔ کئی سال پہلے بھارت نے بھی جموں و کشمیر میں پوٹا نام سے شیڈول فور سے ملی جلی قانون کا نفاذ عمل میں لایا تھااوراب حکومت پاکستان گلگت  بلتستان میں شیڈول فور کا قانون لا کرعوام کی سروں کو فتح کرنے میں کوشاں ہے۔ متنازعہ خطے میں جہاں استصواب رائے کا ہونا باقی ہو، عوام کے سروں پر حکومت قائم کرنے کی بجائے دلوں میں جگہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی گئی تو تنازعہ گلگت  بلتستان کا سود مند تنائج سامنے آ سکتا ہے۔ سود مندنتائج  ایسی صورت میں ممکن ہے جب متنازعہ خطے میں انسانیت کش اور عوام دشمن کالے قوانین کی اندھا دھند استعمال سے گریز کرتے ہو ئے عوام کو آزادی سے جینے کا حق دیا جائے۔
( م ح    پ ..... چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ)





Saturday, May 9, 2020

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, May 8, 2020

History of Gilgit Baltistan: Occupation to Disputed Status



گلگت  بلتستان، مفتوحہ سے متنازعہ
منظور حسین پروانہ چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ مؤمنٹ
گلگت  بلتستان کی کہانی بھی کسی عجوبہ سے کم نہیں ہے،ڈوگرہ سامراج کی غلامی میں تقریبا  109 سال گزرنے کے بعد اس خطے کو یہاں کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت آزادی دلائی اور ڈوگرہ راج کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر کے گلگت  بلتستان کو مقبوضہ خطہ سے مفتوحہ خطے میں تبدیل کردیا۔یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ جب کوئی خطہ یا علاقہ فتح کر لیا جاتا ہے تو اسے اپنی ریاست میں شامل کر لیا جاتا ہے اور جب کوئی ریاست وجود میں آتی ہے تو قومی حکومت بنائی جاتی ہے۔ ڈوگروں سے لی گئی فتح کو قانونی شکل دینے کے لئے اپنی خود مختار اور آزاد ریاست کی بنیاد رکھی گئی اور قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ راجہ گلگت شاہ رئیس خان کو نومولود جمہوریہ گلگت کا پہلا صدر منتخب کیا گیا اور کرنل حسن خان کو کمانڈ ان چیف بنایا گیا۔ عبوری ریاست کی تشکیل پایہ تکمیل کو پہنچا  اور یوں گلگت  بلتستان یکم نومبر 1947 ء کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر وجود میں آئی۔ یہ پاکستان اور انڈیا کے بعد وجود میں آنے والی تیسری خود مختار اور آزاد ریاست تھی۔
                یہاں کی قیادت کی خواہش کہے یا میجر براؤن کی سازش اس  آزاد خطے کو پاکستان میں شامل کر نے کے لئے الحاق کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور  16 نومبر1947ء کو حکومت پاکستان نے اپنا نمائندہ سردار محمد عالم خان کو جانکاری کے لئے گلگت بھیجا۔سردار عالم خان نے گلگت پہنچتے ہی بھانپ لیا کہ یہاں کے عوام پر حکومت کرنا انتہائی آسان ہے، انھوں نے آتے ہی صدر مملکت کو فارغ کر دیا اور حکومت پاکستان کا ملازم لگا دیا اور خود پولیٹیکل ایجنٹ کی حیثیت سے اس آزاد خطے کا سربراہ بن گیا۔ان تمام کاروائی کو کسی بھی طرح سے قانونی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی یہاں کے عوام کی توجہ اس طرف گئی کہ مستقبل قریب میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، عوام کو یہی بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے آپ کا الحاق قبول کرتے ہوئے اس خطے کو جموریہ گلگت سے گلگت ایجنسی میں تبدیل کر دیا ہے اور اپنا نمائندہ یہاں کی نظم و نسق سنبھالنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ کرنل حسن خان کی طرف سے اس اقدام پر مزاحمت کرنے کی کوشش بھی ہوئی جسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر دبایا گیا۔
یہ دنیا کا دوسرا مسلمہ اصول ہے کہ اگر کوئی ملک اپنی وجود کو برقرار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا تو کسی قریبی ملک میں ضم ہو جاتا ہے، پاکستان میں الحاق کی با قاعدہ کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ مفتوحہ خطے کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے اور پاکستان کی آئین میں شامل ہو۔16 نومبر کو آزاد جمہوریہ گلگت عارضی طور پر پاکستان کی انتظامی کنٹرول میں آچکی تھی۔گلگت  بلتستان اب ایک مفتوحہ اور آزاد ریاست سے دوسری ریاست پاکستان میں ضم ہونے کی طرف جا رہا تھا  اور یہاں کے عوام پاکستان کا آئینی اورپاکستان کی طرف سے الحاق کی قبولیت کا منتظر تھی کیونکہ عوام سمجھتی تھی کہ گلگت  بلتستان کا مستقبل اب پاکستان کی انکار اور اقرار پر منحصر ہے، ہاں کی صورت میں گلگت  بلتستان نے پاکستان ہونا تھا نہ کی صورت میں گلگت بلتستان کی عارضی ریاستی حکومت کو چلانے اور اپنی آزادی کو قائم رکھنے کے لئے حکمت عملی مرتب کرنا تھا کیونکہ یہاں کے عوام مہاراجہ ہری سنگھ کی راجدانی سے اپنے
 خطے کو آزادی دلا چکی تھی اور واپسی کی کوئی صورت ممکن نہیں تھا۔
حکومت پاکستان نے گلگت  بلتستان کا انتظامی کنٹرول عارضی طور پر اپنے پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے ہاتھوں میں لیا تھا تا ہم الحاقی خط کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی اثناء میں مہاراجہ کے الحاق نامہ کو لے کر بھارت سلامتی کونسل میں چلا گیا، سلامتی کونسل نے پاکستان کو ہری سنگھ کی ریاست میں مداخلت کی بابت ثمن کیا تو حکومت پاکستان بھی اقوام متحدہ میں پیش ہو گئی اور ان دونوں ممالک UNCIP کی تشکیل پر رضامندہوئے اور UNCIP کی پہلی قراردا د 13 اگست 1948 پر عمل در آمد کی حامی بھر لی گئی۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی منظوری کے بعد گلگت  بلتستان کی پاکستان سے الحاق  کی خواہش کا سنہرا اور  بلا مشروط باب تنازعہ کشمیر کا حل نکلنے تک کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا کیونکہ گلگت  بلتستان مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست جموں و کشمیر کی ایک اکائی تھی، کیونکہ پورا جموں و کشمیر متنازعہ بن گیاتھا۔ جب مہا راجہ کی الحاق کو قانونی حیثیت مل گئی تو ماتحت راجوؤں کی الحاق خود بخود کالعدم ہو گئی۔
                 حکومت پاکستان کے پاس دو آپشن تھے پہلا کہ سردار محمد عالم کو واپس بلا کر جمہوریہ گلگت کو تسلیم کرے، دوسرا گلگت  بلتستان کو بھی متنازعہ خطہ تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھے۔  لہذا دوسرے آپشن کو اپنایا گیا۔ حکومت پاکستان کے پالیسی سازوں کی سوچ تھی کہ اگر ہم گلگت  بلتستان کی یکم نومبر 1947ء کی حکومت کو قبول نہ کرے  تو گلگت  بلتستان متنازعہ ہی رہے گا اور یہاں کے عوام کی ووٹ بھی کشمیر پر استصواب رائے کی صورت میں ہماری کام آئے گی۔ اسی وجہ سے گلگت  بلتستان کی الحاق کی یک طرفہ کوشش مسترد ہوئی۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے فوری بعد حکومت پاکستان نے معاہدہ کراچی کو ڈیزائن کر کے گلگت  بلتستان پر متنازعہ خطے کی حیثیت میں اپنا انتظامی گرفت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کو فوقیت دی۔ اس معاہدے کے سامنے آنے کے بعد گلگت  بلتستان کی مفتوحہ حیثیت اب متنازعہ حیثیت میں تبدیل ہو گیا۔گلگت  بلتستان کی نہ یکم نومبر کی آزاد حیثیت  میں رہی اور نہ ہی پاکستان سے الحاق کا خواب پورا ہوا۔
                 گلگت  بلتستان آج 73 سال گزرنے کے بعد بھی اپنی پہچان سے خالی ہے، بھارت کے زیر اتظام لداخ جو کہ گلگت  بلتستان کا جز ہے، پھارت میں باقاعدہ ایک یونین ٹیریٹری کی حیثیت رکھتی ہے، لوک سبھا اور راج سبھا میں وہاں کے عوام کو نمائندگی حاصل ہے،لیکن گلگت  بلتستان دنیا کی کسی بھی ملک کا آئینی حصہ نہیں ہے اور نہ ہی گلگت  بلتستان کی اپنی کوئی آئین ہے۔ گلگت  بلتستان کی قسمت دیکھے کہ یہ خطہ ایک مقبوضہ خطہ سے مفتوحہ خطہ بن  چکا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے متنازعہ خطہ بن گیا۔ ہماری جیتی ہوئی بازی کوہم نے ہی ہرا دیا اور آج ہم شطرنج کے مہرے بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہماری حیثیت پر بات چیت کا تبادلہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان ہوتا ہے، انڈین گلگت  بلتستان کو اپنی حصہ کہتی ہے تو حکومت  پاکستان گلگت  بلتستان کو متنازعہ کہتی ہے  حال ہی میں سپریم کورٹ کا گلگت  بلتستان میں الیکشن بارے فیصلہ آنے کے بعد انڈیا نے اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت  بلتستان اس کا اٹوٹ انگ ہے، حکومت پاکستان نے بھارت کی احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی موقف کا اعادہ کیا ہے کہ پوری ریاست جموں و کشمیر بشمول گلگت  بلتستان  ایک متنازعہ خطہ ہے۔کس کا موقف کمزور ہے اور کس کا موقف جاندار ہے یہ گلگت  بلتستان کی عوام کا مسئلہ نہیں ہے، گلگت  بلتستان کی یکم نومبر 1947کی  خود مختار اور خود اختیاراتی حکومت کی بحالی ناگزیر ہو چکی ہے جوکہ اقوام متحدہ کہ قراردادوں سے ہم آہنگ بھی ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی انتظامی سیٹ اپ،حکم نامہ یا کورٹ کا فیصلہ گلگت  بلتستان کی عوامی حقوق کا نعمالبدل نہیں ہو سکتی۔ 


Gilgit Baltistan and Karachi Agreement


معاہدہ کراچی ختم ہوا تو گلگت  بلتستان کی پوزیشن کیا ہوگی؟
منظور پروانہ چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ
معاہدہ کراچی کانام سنتے ہی گلگت  بلتستان اور آزاد کشمیر کے جوانوں کا خون جوش  مارنے لگتا ہے، گلگت  بلتستان کے عوام اس معاہدے کو لے کر کشمیر کے عوام سے نفرت کا ایک طوفان اپنی دل میں سمیٹے  ہوئے ہیں، اور کشمیریوں کو گلگت  بلتستان کی غلامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، ان کو خوش فہمی ہے کہ اگر معاہدہ کراچی نہ ہوئی ہوتی تو گلگت  بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ ہوتا  جبکہ اس معاہدے کو لے کر کشمیر کے عوام بھی اس وقت کی کشمیری قیادت کو وطن فروش اور غدار قرار دیتی ہے کیونکہ ان کو غلط فہمی ہے کہ معاہدہ کراچی کی غلطی نہ کرتے تو گلگت  بلتستان آزاد کشمیر حکومت میں شامل ہوتی۔
 ہم 73 سال پہلے کی قیادت کو قصور وار ٹھہرانے اور عوام کو بے شعور کہنے کی بجائے اس معاہدہ کو 28 اپریل2020 کی تاریخ میں دیکھتے ہیں، سردار ابراہیم اور سردارغلام عباس کی جگہ فاروق حیدر اور سردار عتیق ہیں، اور حکومت پاکستان کے نمائندے مشتاق گورمانی کی جگہ امین گنڈا پوری ہے، اقوام متحدہ سے استصواب رائے کی قرارداد آ چکی ہے، اور حکومت پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ووٹ لے کر  پورے کا پوراجموں و کشمیر حاصل کر سکے۔ دوسری طرف صدر گلگت بلتستان شاہ رئیس خان کی جگہ قاری حفیظ کو رکھ لیتے ہیں۔امین گنڈا پوری معاہدہ کراچی کو من عن دوبارہ کمپیوٹڑ سے لکھ کر فارق حیدر اور سردار عتیق اورحفیظ الرحمن کو اس معاہدے پر پاکستان کی ؑعظیم تر قومی مفاد اور قومی سلامتی کے پیش نظر اس پردستخط کرنے کو کہتا ہے تو ان تینوں کا کیا رد عمل ہوگا۔اس میں کوئی دو رائے کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ موجودہ معروضی حالات کے تناظر میں یہ تینو ں سیاسی و عوامی منتخب قیادت ایک لمحہ ضائع کئے بغیر معاہدہ کراچی پر دستخط کریں گے۔ ان تینوں کا دستخط لئے بغیر بھی صدر پاکستان عارف علوی معاہدہ کراچی کو صدارتی آرڈیننس  2020 کی شکل میں جاری کرے تو بھی نہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت میں اتنی جرات ہے  کہ اسے ماننے سے انکار کرے اور نہ ہی یہاں کے عوام میں اتنی ہمت ہے کہ اسے مسترد کرے۔73 سال گزرنے کے بعد بھی ہماری قیادت اور عوام معاہدہ کراچی کو مسترد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور ہم مردے اکھاڑنے والی بیانات دے کر بڑے پھندے خان بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک بار پھر معاہدہ کراچی پر دستخط کرنے والوں کو گالیاں دینے سے پہلے اپنی گریباں میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہم
آج معاہدہ کراچی کو ختم کرنے کی پوزیشن میں کیوں نہیں ہیں؟  ہمارے اوپر تو معاہدہ کراچی سے بھی بدتر قسم کے آرڈر اور کالے قانون نافذ ہو چکی ہیں اور مسلسل نافذہو رہی ہے ہمارے اندر ان آرڈرز کو مسترد کرنے کی جرات کیوں نہیں؟ ہمارے پاس اس کالے قوانین کو نا منظور کہنے کی ہمت کیوں نہیں؟
                معاہدہ کراچی میں آزاد کشمیر کو کسی حد تک با اختیار رکھا گیا ہے، جو کہ آزاد کشمیر کی قیادت کی دانشمندی ہے، گلگت  بلتستان کو اس معاہدے میں شامل ہی نہیں رکھا گیا تھا کیونکہ حکومت پاکستان اس وقت گلگت  بلتستان کی قیادت کو اس اہل ہی نہیں سمجھتی تھی کہ ان سے اس معاہدے کی بابت رائے  لی جائے اور دوسری اہم بات یہ تھی کہ گلگت  بلتستان کی قیادت الحاق پاکستان کے نام پر خطے کی قیادت سردار محمد عالم کو تفویض کر کے فارغ ہو چکی تھی، پاکستان کی قیادت کو اپنی قیادت مان چکی تھی، معاہدہ کراچی میں کشمیری  قیادت نے گلگت  بلتستان کی نمائندگی نہیں کی ہے بلکہ حکومت پاکستان نے گلگت  بلتستان کی نمائندگی کی ہے، اس معاہدے میں صرف ایک پوائنٹ کے ذریعے حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کی قیادت کو بتایا کہ پا کستان پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت گلگت اور لداخ کے انتظامات کو چلائے گی، اس پر کشمیری قیادت نے مزاحمت اس لئے نہیں کی ہوگی کیونکہ آزاد کشمیر سے گلگت  بلتستان کی انتظامی معاملات کو سنبھالنا ممکن نہیں تھا، دوسری  وجہ حکومت پاکستان نے اس بات کی یقین دہائی کرائی تھی کہ گلگت  بلتستان کے انتظامی معاملات وزارت امور کشمیر کے ماتحت ہونگے، جس سے انتظامی طور پر گلگت  بلتستان آزاد کشمیر سے منسلک ہی تصور ہوگا۔
یہ معاہدہ گلگت  بلتستان کی اس وقت کی قیادت کے آنکھوں کے سامنے ہوا تھا جو یہ راگ الاپتے اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ ہم نے ڈنڈوں سے آزادی لی اور خط اور ٹیلی گرام دے کر قائد اعظم کو گلگت  بلتستان تحفے میں دیا اور بلا مشروط الحاق کیا،  گلگت  بلتستان کی الحاقی قیادت نے معاہدہ کراچی پر احتجاج کیوں نہیں کیا۔ یہ معاہدہ الحاق پاکستان کی نفی کرتی تھی، یہ معلوم ہوتے ہوئے اس پر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کی گئی۔ حکومت پاکستان کو خط کیوں نہیں بھیجا کہ گلگت  بلتستان کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے، حکومت پاکستان سے یہ پوچھنے کی ہمت کیوں نہ ہوئی کہ ہماری الحاق کا کیا بنا اور گلگت  بلتستان کو آئینی حقو ق دینے کے بجائے تنازعہ کشمیر سے کیوں جوڑا گیا ۔ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جنہیں تسلیم کرنے اور اپنی قومی قیادت کی کمزوریوں اور غلطیوں یا اپنی مجبوریوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کے بجائے ہم معاہدہ کراچی کو کشمیریوں کی سازش قرار دے کر اس معاہدے کے اصل کرداروں کو محفوظ راستہ دے رہے ہیں اور اعزازات لینے، مراعات لینے کے لئے لائن میں کھڑے ہیں،اپنی حب الوطنی کی زبانی دعوے کا بھرم رکھنے کے لئے ہم آج بھی حقائق سے چشم پوشی کر رہے ہیں اسی وجہ سے غلامی اور زہنی پسماندگی نے گلگت  بلتستان میں ڈھیرے جما لئے ہیں اور ہم آج بھی کٹھ پتلیوں کی طرح غیروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں نہ صرف کھیل رہے ہیں بلکہ ناچ بھی رہے ہیں۔
                چلئے فرض کر لیتے ہیں کہ اس وقت  ہماری قوم میں بہت شعور آچکی ہے، ہماری سیاسی و مذہبی قیادت بلوغت کو پہنچی ہے، ہم میں اتحاد و اتفاق موجود ہیں، ہم اپنے حقوق چھین کر لینے کے لئے آمادہ ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان معاہدہ کراچی کو ختم کرنے کے لئے ایک صفحے پر ہیں اور حکومت پاکستان بھی ہماری خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اس معاہدے کو ختم کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر حکومت پاکستان اس معاہدے سے دستبردار ہوئی تو کیا کسی نے سوچا ہے کہ آزاد کشمیر کی کیا حیثیت ہوگی اور گلگت  بلتستان کی کیا پوزیشن ہوگی۔ معاہدہ کراچی کی رو سے گلگت  بلتستان کا انتظامی کنٹرول عارضی طور پر حکومت پاکستان کو دی گئی ہے اگر یہ معاہدہ ختم ہوا تو گلگت  بلتستان کا انتظامی کنٹرول آزاد کشمیر حکومت کے ماتحت ہو جائے گی، آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان ایک انتظامی یونٹ میں آجائے گی۔ کیا آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان کو ملانے والا کوئی زمینی راستہ ہے،اس معاہدے کو ختم کرنے کی صورت میں دوسرا آپشن یہ ہوگا کہ گلگت  بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دے۔ اس کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں بچتا، جو آپشن گلگت  بلتستان کی عوام کے ذہنوں میں ڈلا گیا ہے کہ معاہدہ کراچی ختم ہوا تو گلگت  بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا یہ بات کسی بھی صورت ممکن نہیں  ہے کیونکہ گلگت  بلتستان کو تنازعہ کشمیر سے کسی بھی صورت الگ نہیں کی جا سکتی اور آزاد کشمیر کے بغیر پاکستان میں شامل بھی نہیں کر سکتی جس کی بات پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں میں بھی واضع طور پر موجود ہیں۔
                گلگت  بلتستان کے عوام کو اب بھی ہوش کے ناغن لینا ہوگا اور اپنی قومی حقوق کے لئے ایک ایجنڈے پر آنا ہوگا، معاہدہ کراچی کالعدم ہونے کی صورت میں ہمیں کس حیثیت میں اپنی تشخص و آزادی کو بحال کرنا ہے اس پر سنجیدگی سے غور و حوض کرنا ہوگا، قومی سوال کے حل کے لئے قومی جواب تیار کرنا ہوگا۔حکومت پاکستان  نے معاہدہ کراچی میں گلگت  بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ کیوں نہیں دیا اور اس وقت اس طرح کی سیٹ اپ دینے پر آمادہ کیوں نہیں؟ ان سولات کے جوابات انتہائی تلخ ہیں جنہیں لکھنے کے لئے اظہار رائے کی مکمل آزادی چائیے جو کہ کم سے کم ہمیں حاصل نہیں ہیں کیونکہ ہم سچ لکھتے ہیں۔سچ نہ عوام سننا چاہتی ہے اور نہ ہی نوجوانوں کو سچ میں دلچسپی ہے۔
…………………………………………………………………..

Tuesday, October 8, 2019

Gilgit Baltistan leader Open letter to PM Pakistan Imran Khan

محترم جناب عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان
اسلام علیکم!
امید ہے کہ آپ متنازعہ گلگت بلتستان کا دورہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہونگے، اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد متنازعہ گلگت بلتستان کے عوام نے آپ سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہے کیونکہ آپ نے متنازعہ گلگت بلتستان کے عوام کو حق خود ارادیت دینے اور اقوام متحدہ کی امن مشن کو خطے تک رسائی دینے کی حامی بھر لی ہے اس لئے4 اکتوبر کو بلتستان کی دار الحکومت سکردو میں آپکا شاندار استقبال ہوگا ۔ آپ پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کا بھی وزیر اعظم ہے لہذا آپ اس حقیقت سے با خبر ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام بنیادی و انسانی حقوق سے یکسر محروم ہیں، آپ خوش قسمت ہیں کہ سکردوتک سیاسی جماعت کو پھیلا سکتے ہیں، جلسہ جلوس کر سکتے ہیں اور تقریر بھی کر سکتے ہیں، لیکن ستم ظریفی تو دیکھئے کہ گلگت بلتستان کی قومی و سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنی سر زمین پر تنظیم سازی نہیں کر سکتے، جلسہ جلوس نہیں کر سکتے، عوام کی خدمت نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں کے قومی رہنماؤں کو شیڈول فور میں ڈال کر پابند رکھا گیا ہے۔ یہاں کے قومی رہنماؤں کی حالت بھی بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سے کم نہیں ہیں۔جموں و کشمیر میں مودی سرکار نے سیاسی رہنماؤں کو قید میں رکھا ہوا ہے اور گلگت بلتستان میں بھی سیاسی رہنماء باباجان اور افتخار کربلائی اپنے ساتھیوں کے ساتھ عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی نے سٹیٹ سبجیکٹ کو ختم کیا ہے گلگت بلتستان میں بھی سٹیٹ سبیکٹ رولز کو ختم کیا ہوا ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام اظہار رائے کی آزادی سے محروم ہیں اور گلگت بلتستان میں بھی اظہار رائے پر قدغن لگا ہوا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں سپیشل سٹیٹس ختم کیا گیا ہے لیکن گلگت بلتستان کو سپیشل سٹیٹس سے محروم رکھا گیا ہے۔
جناب وزیر اعظم صاحب آپ تو خوش قسمت نکلے کہ آپ ہماری ووٹ ہماری رائے اور ہمارے خواہش کے بغیر ہمارا وزیر اعظم بن چکا ہے اور ہم اتنے مجبور و محکوم ہیں کہ ہم آپ کو وزیر اعظم بنانے کے لئے ووٹ تک نہیں دے سکتے، آپ ہمارے لئے قانون بناتے ہیں، آپ ہمارے لئے حکم نامہ جاری کرتے ہیں اور آپ ہماری مقدر کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور ہم اتنے بے بس و لاچار ہیں کہ ہم اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی پر آہ بھی کرے تو غداری کے مقدمات میں گرفتار کئے جاتے ہیں، ہمیں تھانوں، عدالتوں اور قید خانوں میں گھسیٹا جاتا ہے اور ہمیں ذہنی و جسمانی طور پر ٹارچر کئے جاتے ہیں۔ہم پر سفری پابندیاں لگائی جاتی ہیں، ہمارے شناختی کارڈ بلاک اور اکاؤنٹ منجمد کئے جاتے ہیں۔
جناب وزیر اعظم صاحب72 سال بڑا عرصہ ہوتا ہے، ہماری تین نسلیں گزر چکی ہیں، ہمیں نہ پاکستان میں شامل کیا گیا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق حکمرانی دی گئی، ہم سے جانوں کی قربانی تو لی گئی لیکن ہماری قربانیوں کا صلہ محرومی محکومی اور جبر و ستم کی شکل میں لوٹایا جاتا رہاہے۔ ہمارے جوان پاکستان کے بارڈرز پر اس لئے لڑتے رہے کہ شاید ہماری قربانی ہمیں پاکستانی بنانے میں مدددے گی لیکن 72 سال گزرنے کے بعد بھی ہم تنازعہ کشمیر کی سولی پر لٹکتے رہے، اور اب نو جوان نسل جان چکی ہے کہ گلگت بلتستان ہی تنازعہ کشمیر کی سانسیں ہیں اور گلگت بلتستان ہی تنازعہ کشمیر کی روح ہے، گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کا چوتھا فریق ہے، تنازعہ کشمیر میں گلگت بلتستان ہی عالمی توجہ کا مرکز و محور ہے، اگر تنازعہ کشمیر پر امن ہونا ہے تو گلگت بلتستان پر ہونا ہے اور اگر تنازعہ کشمیر پر جنگ ہونی ہے تو بھی گلگت بلتستان کے حصول کے لئے ہونی ہے۔اگر تنازعہ کشمیر حل ہونا ہے تو گلگت بلتستان کی وجہ سے ہی حل ہونا ہے۔ اگر کشمیر خود مختار ہونا ہے تو بنیاد گلگت بلتستان ہے اور اگر تنازعہ کشمیر حل نہیں ہونا ہے تواس کی وجہ بھی گلگت بلتستان ہی ہے۔
جناب وزیر اعظم صاحب گلگت بلتستان کے عوا م مسئلہ کشمیر اپنی منظقی انجام تک پہنچنے تک اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام حق حکمرانی چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام اپنی سر زمیں پر اپنی رائے و خواہش کا نظام و انتظام چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام اپنی خطے پر اپنی حق رائے دہی سے قانون سازی چاہتی ہے، گلگت بلتستان کی عوام اپنی زمین پر اپنی حق ملکیت چاہتی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنی تاریخی و ثقافتی تشخص چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام ہمسایہ ممالک سے آزادانہ نقل و حمل اور تجارت چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام معاشی و اقتصادی طورپر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان پر بوجھ بننا نہیں چاہتی۔گلگت بلتستان کے عوام دنیا میں سر اٹھا کر چلنا چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام وہ تمام انسانی و بنیادی حقو ق چاہتی ہے جو انہیں اسلام نے دی ہوئی ہیں اور اقوام متحدہ کی چارٹرمیں تسلیم شدہ ہیں۔
جناب وزیر اعظم صاحب مجھے امید ہے کہ آپ اپنے دورے کے اس اہم اور تاریخی موقع پر اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 ء کی قرار داد کی روشنی میں گلگت بلتستان میں خود مختار اور با اختیار " لوکل اتھارٹی حکومت " کے قیام کا اعلان فرمائیں گے اور گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی خلاف ورزی کو روکنے کا اعلان کر کے مودی سرکار کی منہ پر زور دار طمانچہ ماریں گے اور اقوم عالم کو مثبت پیغام دیں گے کہ عمران خان صرف تقریر نہیں کرتا تقریر کو عملی جامہ بھی پہناتا ہے۔
آپ کا خیر اندیش
انجینئر منظور پروانہ
چئیرمین گلگت بلتستان یونائیٹڈ موء منٹ
بمقام شیڈول فور،سکردو بلتستان
مورخہ 3 اکتوبر 2019..................

Tuesday, February 26, 2019

Gilgit Baltistan-Advantages of State Subject Rules

سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے فوائد
سٹیٹ سبجیکٹ رولز پر گفتگو کرنے سے قبل ہمیں باشندگان ریاست اور غیر باشندگان ریاست کے درمیان فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کا ابہام نہ رہے ۔ وہ تمام افراد جویکم نومبر 1947 ء سے قبل موجود ہ آٹھائیس ہزار مربع میل گلگت بلتستان میں مستقل رہائش رکھتے تھے اور رکھتے ہیں انہیں باشندگان ریاست کہا جاتا ہے۔ جبکہ وہ تمام افراد جو کہ یکم نومبر 947 1 ء کے بعد گلگت بلتستان میں مستقل یا عارضی طور پر رہائش رکھتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں یا ملازمت کرتے ہیں وہ غیر باشندگان ریاست کہلاتے ہیں۔ سٹیٹ سبجیکٹ رولز پر عمل در آمد کے لئے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں چند ممبران اسمبلی کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد کو حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین کے اراکین کی سخت مخالفت کی وجہ سے مسترد کئے جانے کے بعد گلگت بلتستان کی سیاسی حلقوں میں ایک تازہ بحث چھڑ گئی ہے۔اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس قانون کی اطلاق سے گلگت بلتستان میں بد امنی پھیل سکتی ہے کیونکہ گزشتہ ستر سالوں سے لاکھوں غیر مقامی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں عوامی املاک و ارضی پر قابض ہو چکے ہیں ان افراد کو گلگت بلتستان سے بے دخل کرنا ممکن نہیں ہے ۔ دوسری طرف گلگت بلتستان کی اکثریتی عوام کا مطالبہ ہے کہ سٹیٹ سبجیکٹ رولز کا نفاذ گلگت بلتستان کی بقاء و سلامتی کا مسئلہ ہے ۔ ان کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہونے کی وجہ سے یہاں سٹیٹ سبجیکٹ رولز روز اول سے ہی نافذالعمل ہے لیکن انتظامی حکومت اس قانون کی خلاف کے مرتکب ہو رہی ہے ، لہذا اس خلاف ورزی کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی من پسند تشریح کرتے ہوئے یہ پرو پیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اس قانون پر عمل در آمد کا مقصد تمام غیر باشندگان ریاست( غیر مقامی) لوگوں کو گلگت بلتستان سے نکال باہر کرنا ہے ، در اصل ایسا با لکل نہیں ہے بلکہ سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی نفاذ کا مقصد باشندگان ریاست کے حقوق اور غیر باشند گان ریاست کے فرائض کا تعین کرنا ہے۔ یہ معلوم کرنا ہے کہ کون متنازعہ گلگت بلتستان کا باشندہ ( National) ہے اور کون متنازعہ خطے میں اممی گرنٹ(Immigrant) ہے۔ باشند گان ریاست اور غیر باشندگان ریاست کے درمیان فرق واضع رکھنا کہ کس نے استصواب رائے کی صورت میں حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہے اور کس یہ حق حاصل نہیں ہوگا ۔باشندگان ریاست پر غیر باشندگان ریاست کی غیر متوازن آباد کاری سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا تدارک کرنا ہے تاکہ مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچایا جا سکے ۔مقامی ثْقافت ، زبان، تہذیب و تمدن اور رسم و رواج کی دائمی بقا کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرنا ہے۔
یہ قانون تنازعہ کشمیر کے حل کی بنیادی اکائی ہے ، حکومت پاکستان کی خواہشات کے مطابق کشمیر تنازعے پر استصواب رائے سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بنیادوں پر ہی ہونا ہے ۔ بھارت نے جموں کشمیر میں اب تک 35A ایکٹ کے تحت سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو تحفظ دیا ہوا ہے اور بدلتے حالات کے ساتھ اس ایکٹ کو ختم کرنا چاہتی ہے اورحکومت پاکستان اس قانون کو ختم کرنے کے بھارتی عزائم کی سخت مخالفت کر رہی ہے ، اور بھارتی ہائی کمیشن کو اپنی تحفظات سے آگاہ کرتی رہی ہے کہ بھارت سٹیٹ سبجیکٹ رولز(35A) کو ختم کرنے سے باز رہے۔حکومت،گلگت بلتستان میں اس قانون کی پاسداری کو یقینی بنا کر اخلاقی جواز کے ساتھ جموں کشمیر میں اس قانون کو ختم کرنے کی بھارتی منصوبہ کو ناکام بنا سکتی ہے۔ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز پر عمل در آمد باشندگان ریاست اور غیر باشندگان ریاست دونوں کے مفاد میں ہیں جو کہ مختصرا درج ذیل ہیں۔
باشندگان ریاست کے لئے فوائد
۱۔ باشندگان ریاست کی جان و مال کو تحفظ حاصل ہوگا جو کہ اس وقت دن بہ دن غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے اور باشندگان ریاست پر زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے۔
۲۔ گلگت بلتستان کی عوام کی ملکیتی و اجتماعی اراضی ، زیر کاشت ،شاملات ، داس ،جنگلات اور چراگاہوں کو بچایا جا سکتا ہے جن پر باشندگان ریاست کی حق ملکیت تسلیم شدہ ہے
۳۔ گلگت بلتستان کی خالص مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل نہیں کر سکے گی۔
۴۔ گلگت بلتستان میں غیر قانونی طور پر آباد ہونے والے تارکین وطن کو روکا جا سکتا ہے تاکہ باشندگان ریاستکو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
۵۔ حکومت باشندگان ریاست کی ملکیتی زمینوں پر جبری قابض نہیں ہوگی ، اگر قومی مقاصد کے لئے زمین مطلوب ہوتو عوام کو معاوضہ دے کر حاصل کرے گی۔
۶۔غیر باشندگان ریاست کو غیر قانونی ڈومیسائل کی اجراء کا راستہ رک جائے گا۔ جس سے مقامی آبادی کو ملازمتوں میں جگہ ملے گی۔
۷۔ باشندگان ریاست کو حاصل سبسڈیز کا پورا پورا حق ملے گا جوکہ اس وقت غیر باشندگان ریاست کے ساتھ تقسیم ہو رہا ہے ۔
غیر مقامیوں کے لئے فوائد 
۱۔ غیر باشندگان ریاست کو گلگت بلتستان میں رہائش رکھنے اور کاروبار کرنے کے لئے قانونی اجازت نامہ حاصل ہوگا۔
۲۔ غیر باشندگان ریاست کی رجسٹریشن ہوگی اور کسی کو بھی گلگت بلتستان سے نہیں نکالا جا سکے گا سوائے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے۔
۳۔غیر باشندگان ریاست گلگت بلتستان کے قانونی عارضی شہریت کے حامل ہونگے۔
۴۔ غیر باشندگان ریاست کی جان و مال کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ وہ کاروبار چلانے اوراپنی زندگی گزارنے میں آزاد ہونگے۔
۵۔ غیر باشندگان ریاست کو پسندیدگی حاصل ہوگی کیونکہ یہ لوگ ریاستی قوانین کی روشنی میں گلگت بلتستان کی ترقی میں حصہ دار ہونگے۔
۶۔ غیر باشندگان ریاست کی فہرست اور کاروباری اجازت نامے حکومتی اداروں کے ریکارڈ پر ہونگے۔ جس سے امن و امان کو بہتر بنایا جا سکے گا۔
۷۔ غیر باشندگان ریاست کی کاروباری اجازت ناموں کی اجراء پر خطیر رقم حاصل ہوگا جو کہ گورنمنٹ ریوینیو میں اضافے کا باعث بنے گا۔
َََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gilgit Baltistan: Provisional Province proposal rejected

گلگت بلتستان کی قومی تشخص اور عبوری صوبہ
National Identity of Gilgit Baltistan and Provisional Province Demand 
سپریم کورٹ آف پاکستان کی سات رکنی لارجز بنچ نے 17 جنوری 2019ء کو گلگت بلتستان کی آئینی اور جغرافیائی حیثیت پراپنے فیصلے میں ایک بار پھر حکومت پاکستا ن کی دیرینہ موقف کا اعاہ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور ریاست جموں و کشمیر کی اکائی ہے اس لئے گلگت بلتستان کو آئین پاکستان میں شامل کرکے صوبہ نہیں بنایا جا سکتا جب تک استصواب رائے کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل سامنے نہیں آتا۔ سپریم کورٹ اپنے فیصلے کی پیرا نمبر 13 میں لکھتا ہے کہ "دو خطوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تعلق رکھنا پاکستان کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔1948 میں UNCIP نے ان خطوں کی مقامی خود اختیاراتی حکومت کی وجود کو تسلیم کیا ہے ( جوکہ حکومت پاکستان سے الگ تھلگ ہیں)۔ ہم یقیناًیہاں گلگت بلتستان کے لئے فکر مند ہیں۔ اس خطے کو متنازعہ جموں و کشمیر کا حصہ ہونے کی بنا پر پاکستان میں شامل نہیں کر سکتے۔ جبکہ یہ خطہ ہمیشہ حکومت پاکستان کی مکمل انتظامی قابو میں ہے"۔
سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان پر حکومت پاکستان کی دیرینہ اور اصولی موقف پر سمجھوتہ کئے بغیر اور گلگت بلتستان کو آئین پاکستان کی چھتری میں جگہ دئیے بغیر گلگت بلتستان میں انتظامی اصطلاحات کے بارے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے لئے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں نیا حکم نامہ تیار کریں ۔ متنازعہ گلگت بلتستان پر حکومت پاکستان کی انتظامی گرفت کو مزید سخت کرنے کے لئے کچھ عدالتی احکامات بھی جاری کی ہیں اور ان اختیارات کو گلگت بلتستان کی عوامی منتخب نمائندوں سے اٹھا کر صدر پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان کو منتقل کئے ہیں۔ گلگت بلتستان کو نہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں لوکل اتھارٹی حکومت دینے کا حکم صادر کیا ہے اور نہ ہی آزاد کشمیر طرز کی انتظامی سیٹ اپ دینے کا کہا گیا ہے۔ اسٹیٹ سبجیکٹ رولز جو کہ متنازعہ خطے کی بنیادی پہچان ہے اس کی خلاف ورزی سے بھی حکومت کو نہیں روکا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے نے گلگت بلتستان کے عوام کی صفوں میں سیاسی گرما گرمی پیدا کی ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی اکثریت پانچواں آ ئینی صوبہ کے مطالبے سے دستبردار ہوچکی ہیں اور غالب اکثریت کے درمیان اتفاق رائے پایا جانے لگا ہے کہ گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا آئینی حصہ نہیں بن سکتا اور عوام اس مطالبے پر بھی متفق ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تنازعہ کشمیر کے حل تک گلگت بلتستان کو تنازعہ کشمیر کے دیگر حصوں کو حاصل حقوق ملنی چائیے۔ تا ہم متنازعہ کشمیر کے دیگر حصوں کو حاصل حقوق کے بارے میں مقامی سیاست دانوں اور سٹیک ہولڈرز میں ابہام اور اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ایک طبقہ فکر گلگت بلتستان کو جموں و کشمیر طرز کی سیٹ اپ دلانے کے خواہش مند ہیں جو کہ انڈیا نے جموں وکشمیر کو خصوصی ایکٹ کے تحت دیا ہوا ہے ۔ ان کے خیال میں گلگت بلتستان کے لئے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو دی گئی انتظامی سیٹ اپ بہتر ہیں۔ یہ طبقہ حکومت پاکستان سے سوال کر رہا ہے کہ انڈیا دے سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں دے سکتا؟اس سیٹ اپ کا نام انہوں نے عبوری صوبہ رکھ دیا ہے اور نیا مطالبہ سامنے لے آئے ہیں ، اس طبقہ فکر کا موقف ہے کہ پاکستان گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنائیں۔ عبوری صوبہ بنانے کے بعد جموں و کشمیر کو حاصل مراعات اور سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے بارے میں یہ طبقہ تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ عبوری صوبہ بنانے کے بعد سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بحالی پر حکومت پاکستان کو قائل کرنا ایک نا ممکن امر ہے ۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی تعلق کو برقرار رکھنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے اس لئے آئینی ماہرین کی رائے یہ ہے کہ جموں و کشمیر طرز کی صوبائی سیٹ اپ دینے کے لئے پہلے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ایک دوسرے میں ضم کرنا ہوگا اس کے بعد دونوں اکائیوں کو ملا کر پاکستان کاعبوری صوبہ بنانا ہوگا۔
دوسرا مکتب فکر گلگت بلتستان کی قومی تشخص کو چھیڑے بغیر اندرونی خود مختاری کا مطالبہ کرتا ہے جوکہ UNCIP اور شملہ معاہدے میں حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کو دینے کا پابندہے ، اندورنی خود مختاری کا رول ماڈل حکومت پاکستان اپنے زیر انتظام آزاد کشمیر سیٹ اپ کو سمجھتی ہے اس لئے یہ طبقہ فکر گلگت بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ، اس طبقہ فکر کا موقف ہے کہ حکومت پاکستان اپنے زیر انتظا م ایک متنازعہ حصہ آزاد کشمیر کو پہلے ہی انتظامی سیٹ اپ دے چکی ہے ، جبکہ گلگت بلتستان کو اس طرح کی انتظامی سیٹ اپ سے محروم رکھا گیا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان روز اول سے ہی ایک انتظامی یونٹ کا حصہ ہے جسے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کہا جاتا ہے ، ایک ہی انتظامی یونٹ کے ماتحت ہونے کے باوجود گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو دو مختلف سیٹ اپ دیے گئے ہیں ۔ آزاد کشمیر کو ریاستی سیٹ اپ دی گئی ہے اور گلگت بلتستان کو صوبائی ۔لہذا اس طبقہ فکر کا موقف ہے کہ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے ماتحت دونوں خطوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق دیا جانا چائیے ۔اس لئے یہ طبقہ فکر گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ متنازعہ خطے کے دو اہم فریقین کو برابری کی سطح پر حقوق مل سکے اور حکومت پاکستان پر گلگت بلتستان کی عوام کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کا بین الاقوامی الزام کو رد کیا جا سکے ۔اس مقصد کے لئے نہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کی ضرورت ہے اور نہ دو تہائی اکثریت کی ۔ ابتدائی طور پر آزاد کشمیر ایکٹ کو گلگت بلتستان میں نافذ کرنے اور بعد میں بہتری لانے کے لئے اصلاحات لانے کی ضرورت ہوگی۔
اولذکر طبقے کا خیال ہے کہ حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنائیں گے تو گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی ملے گی اور گلگت بلتستان قومی دھارے میں شامل ہونگے۔ گلگت بلتستان کے تین چار افراد قومی اسمبلی کے ممبر بن جائیں گے۔ 
آخرالذکر طبقہ فکر کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کوآئینی صوبہ کے بجائے عبوری صوبہ کا درجہ دینے سے گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت توبرقرار رہے گی لیکن مسئلہ کشمیر سے بظاہر لا تعلق ہو جائے گا جس سے گلگت بلتستان موجودہ سپیشل سٹیٹس سے محروم ہوگی۔ بین الاقوامی طور پر اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ پاکستان استصواب رائے سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے اور موجودہ لائن آف کنٹرول کو مستقل بارڈر ماننے پر مائل ہے۔ گلگت بلتستان سے سٹیٹ سبجیکٹ رولزکا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گا اور بحالی کا مطالبہ بلا جواز ہوگا۔ حکمرانوں کو عبوری صوبہ کی آڑ میں گلگت بلتستان کی وسائل پر قبضہ کرنے ، ٹیکس لگانے اور سبسڈیز میں کمی لانے کا جواز مل جائیگا ۔ گلگت بلتستان میں عوامی زمینوں کو سرکاری زمین قرار دے کر ہڑپ کرنے کے عمل کو قانونی تحفظ حاصل ہو گا ، گلگت بلتستان کی مقامی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لئے بڑے پیمانے پر غیر مقامیوں کو گلگت بلتستان میں بسایا جائے گااور بالخصوص سی پیک منصوبے کی وجہ سے غیر مقامی لوگ بڑے پیمانے پر گلگت بلتستان منتقل ہونگے۔ اس سے گلگت بلتستان کی عوام کی ہر طرح سے استحصال ہوگی قومی اسمبلی میں نمائندگی کے نام پر تین چار افراد کو ملازمت ملے گی۔ عبوری صوبے کے ممبران قومی اسمبلی میں صرف تماشا بین ہونگے اگر انہیں ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دیا گیا توحکمران جماعت کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہو نگے جس طرح موجودہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے تیس اراکین استعمال ہو رہے ہیں۔ 
پاکستان کی مستقل صوبوں کے عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کے مشاہدے کے بعدیہ طبقہ فکر دلیل دیتی ہے کہ جہاں بلوچستان کے 40 ممبران ا قومی سمبلی بلوچستان کے لئے کچھ کرنے سے قاصر ہیں وہاں مبصر کے طور پر موجود گلگت بلتستان کے تین چار افراد گلگت بلتستان کے لئے کیا کر سکیں گے۔ یہ ممبران قومی اسمبلی میں نمائندگی کے باوجود گلگت بلتستان کے لئے کچھ نہیں کر سکیں گے جس سے گلگت بلتستان کے عوام میں احساس محرومی مزیدبڑھ جائے گی اور کچھ سالوں بعد گلگت بلتستان کی عوام کو "عبوری صوبہ" کو ختم کرنے کی تحریک چلانی پڑے گی ، اس سے بہتر یہی ہوگا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا غیر آئینی عبوری صوبہ نہیں بنایا جائے تاکہ لوگوں کی غیر مشروط جذبہ الحاق اور حب الوطنی کے بھرم قائم رہ سکے ۔ یہ طبقہ فکر گلگت بلتستان کی تہذیب و تمدن ، رہن سہن ، ثقافتی اقدار اور عوامی مزاج اور پاکستان کی چھوٹے آئینی صوبوں کی موجودہ حالات ، احسا س محرومی ، پسماندگی اور انسانی حقوق کی ابتر صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کو کسی بھی صورت گلگت بلتستان کی عوام کی بہتری کے لئے ایک مناسب حل نہیں سمجھتا۔ ان کا خیال ہے کہ عبوری صوبے کی نوازشات و کرامات گلگت بلتستان کی عوام کو موجودہ مراعات اور پاکستانی عوام کی ہمدردی و خلوص سے یکسر محروم کرنے کا سبب بنے گا اور عوام کی امیدیں دم توڑ دے گی جس سے استصواب رائے پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہونگے۔
حکومت پاکستان بدلتے عالمی حالات کے پیش نظر گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دینے پر کافی سالوں سے سنجیدگی سے غور کررہی ہے جوکہ ملک کی ایک طاقت ور سٹیک ہولڈرز کی عدم رضامندی کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا ہے ۔سال 2018 ء میں سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات میں آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ کو ترجیح حاصل تھی اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کے بقول انہوں نے یہ سیٹ اپ لینے سے انکار کیا تھا ۔وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کی آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ کو لینے سے انکار کرنے کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی وزیر اعلیٰ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے تا ہم اس میٹنگ میں موجود ایک بااثر بیورو کریٹ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے صرف اور صرف اپنی دو سالہ اقتدار بچانے کے لئے قومی اقدار کو داؤ پر لگایا تھا ۔ اگر وہ اس سیٹ اپ کو قبول کرتے تو گلگت بلتستان کی موجودہ اسمبلی کو توڑا جانا تھا تاکہ گلگت بلتستان میں نئے نظام کے تحت دوبارہ انتخابات کرائے جا سکے۔ اس صورت میں وزیر اعلیٰ کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا تھا اور مسلم لیگ نواز کی حکومت کا خاتمہ بھی لازمی تھا۔ اس لئے انہوں نے اس سیٹ اپ کو مستردکر دیا تاکہ اپنی کرسی اور پارٹی کی حکومت کو بچایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے اس سیٹ اپ کی آفر کو نہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں زیر بحث لایا ۔ نہ اپنی کابینہ کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی گلگت بلتستان کے عوام کو کانوں کان خبر ہونے دی اورانتہائی پھرتی سے حاقان عباسی صاحب کو گلگت لائے اور2018 ء کا کالا قانون نافذ کر دیا اور عوام نے وزیر اعظم پاکستان کا جوتوں سے استقبال کر کے آرڈر 2018سے اپنی نفرت کا اظہار بھی کیا۔
آرڈر 2018ء پر عوامی مزاحمتی رد عمل کے نتیجے میں آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ کا مطالبہ بھی شدت اختیار کر گیا تو وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے خود میڈیا کو بیان دیا کہ آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ کی انہیں پیشکش ہوئی تھی جو انہوں نے مسترد کر دیا تھا، وزیر اعلیٰ نے کس طاقت کے حکم پر عوامی مطالبے اور حکومتی پیشکش کو مسترد کیا یہ ایک الگ موضوع ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ سر تاج عزیز کمیٹی میٹنگ سے آرڈر 2018ء لانے کے بجائے کشمیر طرز کی سیٹ اپ کو قبول کرتا تو نہ آرڈر 2018ء کا اجراء ہوتا اور نہ ہے سپریم کورٹ کو جیوڈیشل آرڈر 2019ء جاری کروانے کی نوبت آتی۔ جو کام گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو کرنا تھا وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فارق حیدر نے کر دکھایا ۔ آزاد کشمیر اسمبلی نے گلگت بلتستان کے بارے میں متفقہ طور پر آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دینے کی قرار داد منظور کروا کے ان لوگوں کا منہ بند کر دیا ہے جو ہر بات پر کہتے تھے کہ گلگت بلتستان کے حقوق میں کشمیری رکاوٹ ہیں۔ کشمیروں کو گلگت بلتستان کو حقوق دینے پر کوئی اعتراض نہیں رہا ۔ اگر گلگت بلتستان کے عوام ایک ایجنڈے پر متفق ہو جائے تو ایک دن میں حکومت پاکستان سے اپنے جائز مطالبہ منو اسکتی ہے وہ سیٹ اپ جس کی حکومت پاکستان وزیر اعلیٰ کوپیشکش کر چکی ہے، آزاد کشمیر اسمبلی قرارداد پاس کر چکی ہے اوراقوم متحدہ کی قرار دادوں اور شملہ معاہدے میں تسلیم شدہ ہے۔
گلگت بلتستان کو اندونی خود مختاری (آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ )دے کر عمران خان بلا لہرا کر اور جنرل احسان محمود خان ڈنڈا ہوا میں گھما کرفخر سے کہہ سکیں گے کہ ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل پیرا ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی قربانیوں کے اعتراف میں اندرونی خود مختاری دے کر با اختیار بنا دیا گیا ۔ تا ہم گلگت بلتستان میںیو این سی آئی پی کی قرار دادوں کو پس پشت ڈال کر ، گلگت بلتستان کے عوام کو حق حکمرانی اور حق ملکیت سے محروم رکھ کر ، گلگت بلتستان کے تجارتی راستوں کو بند رکھ کر ، گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں کو شیڈول فور اور جیلوں میں قید رکھ کر ، گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کو روندکراورگلگت بلتستان میں انسانی حقوق کو پامال کر نے کے بعد گلگت بلتستان کو سر کا تاج کہے ، ماتھے کا جومرکہے، گردن کہے یا کمر کہے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر فی الحال گلگت بلتستان کی منفردقومی تشخص کو بحال رکھتے ہوئے اندرونی خود مختاری (آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ )ہی عوام کی مفاد اور پاکستان کی عظیم تر قومی مفاد میں ہے۔
تحریر: انجینئر منظور حسین پروانہ ، چئیرمین ، گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔