Sunday, September 4, 2016

Gilgit Baltistan Economic Corridor گلگت بلتستان اقتصادی راہداری منصوبہ


گلگت بلتستان اقتصادی راہداری منصوبہ
Gilgit Baltistan Economic Corridor
تحریر: انجینئر منظور حسین پروانہ
چئیرمین گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ
پاکستان چین اقتصادی راہداری CPEC))کا منصوبہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ، اس منصوبے نے ایک طرف پاکستان اور چین کے لئے ترقی کی نئی راہیں کھولنے کے امکانات روشن کئے ہیں تو دوسری طرف پاکستان ، بھارت اور چین کے درمیان مفاداتی جنگ کے خدشات کو بھی واضع کر دئیے ہیں ۔ صورت حال کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس راہداری کے منصوبے کو پاکستان آرمی کی زیر نگرانی میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کا بار بار عزم کا اظہار کر چکے ہیں اس منصوبے کے لئے خصوصی فورسس اور نئی چھاؤنیوں کے قیام کے لئے پالیسیاں مرتب کی جارہی ہیں ۔ پاکستان اور چین کی قیادت کا CPEC کے خلاف انٹر نیشنل سازشوں کی تدارک کے لئے کی جانے والی پیشگی اقدامات کے پس منظر میں جنگ و جدل کی خدو خال کو نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں امریکہ اور بھارت کی اس منصوبے کے خلاف سازشوں کی خبروں نے بھی اس منصوبے کوغیر یقینی صورت حال سے دوچار کیاہے ۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ کس حد تک قابل عمل ہے ، اس منصوبے سے پاکستان اور چین کوکتنا اقتصادی فائدہ ہوگا اور اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے کس طرح کی سازشیں ہو رہی ہے ، ان تمام پہلوؤں سے قطع نظر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری نے ایک بار پھر گلگت بلتستان کو عالمی سیاسی منظر نامے کی شہ سرخی بنا دیا ہے۔

گلگت بلتستان جغرافیائی اور تاریخی اعتبار سے بنیادی طور پر وسطی ایشیاء کا حصہ ہے ، جسے (Gateway of Asia ) بھی کہا جاتا ہے ۔صدیوں کی رقابت کے باوجودگلگت بلتستان کی تاریخ و ثقافت ،تہذیب و تمدن اور روایات وسطی ایشیائی ملکوں سے ملتی جلتی ہیں ، گلگت بلتستان کو دنیا کی چار ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک بفراسٹیٹ(Buffer State) کی حیثیت حاصل ہے ۔گلگت بلتستان دنیا میں تازہ پانی کا سب سے بڑا منبع بھی ہے اور پانی پر لڑی جانے والی تیسری عالمی جنگ کے بارے میں بھی ماہرین کا اشارہ گلگت بلتستان کی طرف ہی جاتا ہے۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری نے گلگت بلتستان میں تازہ پانی (Fresh Water) پر جنگ یاگرم پانی(Hot Water) تک رسائی کے لئے جنگ کے خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔ 
گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ (Disputed Territory )ہے، یہ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں اپنی تشخص پہچان اور خودمختاری سے محروم ہو گئی ہے۔ یکم نومبر1947ء سے قبل مہاراجہ ہری سنگھ کی سلطنت ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مسئلہ کشمیر سے منسلک ہے۔ حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کی قیادت سے معاہدہ کراچی 28اپریل 1949ء کے ذریعے اس خطے کا عارضی انتظامی کنٹرول سنبھالا تھا جو کہ ابھی تک چلا آرہا ہے۔ جب بھی گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی نا کام کوشش ہوتی ہے تو کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں آڑے آتی ہیں۔بھارت ، جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کی قیادتوں کی طرف سے بھی مخالفت ہوتی ہے اور پاکستان بھی کشمیرپر اپنی اصولی موقف اور خارجہ پالیسی کے پیش نظر گلگت بلتستان کو آئینی حقوق نہیں دے سکی ہے۔ 
اسلام آبادسیلف گورنینس آرڈر 2009 ء کے تحت گلگت بلتستان میں اپنا انتظامی امور چلا رہا ہے۔گلگت بلتستان ایک ہی وقت میں دو انتظامی سیٹ اپ کا حامل ہے ایک سیٹ اپ ریاستی طرزکی ہے تو دوسری سیٹ اپ صوبائی طرز کی ہے۔ ریاستی طرز حکومت کے تحت گلگت بلتستان میں سینیٹ طرز کا ایک ادارہ موجود ہے جسے" گلگت بلتستان کونسل "کہا جاتا ہے جس کا سربراہ وزیر اعظم پاکستان ہے جبکہ صوبائی طرز کی سیٹ اپ کے تحت" گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی "موجود ہے جس میں وزیر اعلیٰ اور گورنر کے عہدے متعارف کرائے گئے ہیں ۔تاہم انتظامی کنٹرول میں ہونے کے باوجود گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں ہے، یہ خطہ آزاد کشمیر اور جموں و کشمیر حکومتوں کے دائرہ کار سے بھی باہر ہیں ۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو نہ اپنی یکم نومبر 1947ء کی آزادجمہوریہ گلگت(Gilgit Republic) کی بحالی کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی ریاست پاکستان کا حصہ بنایا جاتا ہے، اور نہ ہی آزاد کشمیر حکومت میں ملایا جاتا ہے اسی لئے یورپین یونین کی رکن ممبر ایما نکلسن کی رپورٹ 2007 ء میں گلگت بلتستان کو دنیا کے نقشے پر کالا دائرہ(Black Hole) کہا گیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر گلگت بلتستان کو دنیا کی آخری نو آبادیات Last Colony of the World) ( سے بھی جانا جاتا ہے۔ 
گلگت بلتستان پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمکش کا میدان بھی ہے اور عالمی طاقتوں کو مداخلت کے لئے پر کشش سامان بھی۔ پاکستان اور چین کی اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے اقتصادی راہداری گزارنے کی حکمت عملی سے بھارت خاصا پریشان نظرآرہا ہے ۔جوں جوں پاکستان اور چین کی قربتوں میں اضافہ ہوگا بھارت بھی امریکہ کے ساتھ اپنی تعلقات کو مضبوط کرے گا ۔اگر پاکستان اور بھارت باہمی مذاکرات سے مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو اقوام متحدہ اپنی قرار دادوں پر عمل در آمد کروانے کے لئے مستقبل قریب میں امن مشن بھیج سکتی ہے ، اقوام متحدہ کی امن مشن(UN Peace Mission) کا مسکن گلگت بلتستان ہی ہو سکتا ہے کیونکہ" مظفر آباد اور سری نگر "کے مسائل کا حل" گلگت" میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کی چابی(Key of Kashmir Dispute) ہے ، تنازعہ کشمیرکے تالے کو گلگت بلتستان کی چابی سے ہی کھولا جا سکتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ وہاں جائے گی جہاں امریکہ چاہے گا ۔ امریکہ وہاں جانا چاہے گا جہاں سے وہ اپنی معاشی حریف کو نکیل دے سکے ، چین کی معاشی اونٹ کو گلگت بلتستان کی بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے درمیان نکیل دی جا سکتی ہے ۔گلگت بلتستان ان دنوں تشخص کی بحران) (Identity Crisis سے گزر رہا ہے اور ان تمام صورت حال میں اگر اقوام متحدہ نے گلگت بلتستان کی تاریخی قومی تشخص(Historical National Identity) کو تسلیم کرنے کی حامی بھرلی تو تعجب کی بات نہیں ہوگی کیونکہ گلگت بلتستان کی قوم پرست جماعتیں کئی سالوں سے عالمی رائے عامہ کو اس بات پر قائل کرنے کے لئے موثر جد و جہد کر رہی ہیں۔حکومت کی طرف سے خطے کے عوام کی حقوق کے لئے کی جانے والی جد و جہد کو انڈیا سے جوڑنے اور سیاسی رہنماؤں پر غداری کے مقدمات قائم کرنے کی حکمت عملی سے حالات کی سنگینی اور غیرمحسوس دباؤ کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان پاکستان اور چین کو ملانے والا واحد خطہ ہے ، پاکستان چین اقتصادی راہداری گلگت بلتستان سے ہی ہوکر گزرتی ہے ۔ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہونے کی وجہ سے جہاں اس اقتصادی راہداری کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور CPEC دن بہ دن متنازعہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں کئی باتیں زیر غور آ سکتی ہیں۔ اولا اس اقتصادی راہداری کو گلگت بلتستان سے گزارے بغیر گوادر تک پہنچانے کے لئے متبادل راستہ تلاش کرے ثانیا اس اقتصادی راہداری سے قبل حکومت گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی حصہ بنائے ، ثالثا یکم نومبر 1947ء کی آزاد و خود مختار ریاست کوبحال کرنے کا اعلان کر کے گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیرسے الگ تھلگ کرے
اور گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ معاملات طے کر کے CPEC پر عمل در آمد کو یقینی بنائے ۔یہ تینوں تجاویز فی الحال کسی بھی فریق کے لئے قابل قبول نظر نہیں آتی نہ پاکستان گلگت بلتستان کو اپنا حصہ بنانے کی پوزیشن میں ہے نہ انڈیا گلگت بلتستان پر اپنی دعوی ٰسے دستبردار ہونے والا ہے اور نہ ہی سرحد کے دونوںآرپارکی کشمیری قیادت اس طرح کی کسی بھی تجویز پر عمل ہونے دے گی ۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں ردو بدل کرنے کی تجویز دی تو سب سے بڑا رد عمل کشمیری قیادت کی طرف سے سامنے آیا اور وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے حریت رہنماؤں کے نام خط لکھ کروضاحت کر دی ہے کہ پاکستان
کشمیریوں کی مرضی کے خلاف گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو کبھی نہیں چھیڑے گا۔
پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے منصوبے گلگت بلتستان کے انسانی و بنیادی حقوق سے محروم عوام کے لئے فی الحال شادمانی کا باعث بن رہا ہے کیونکہ PTV کے خبروں میں سال میں ایک بار گلگت کا نام سن کر سارا سال خوش رہنے والے لوگ آج عالمی میڈیا میں ہر سیکنڈ میں گلگت بلتستان کا ذکر سن رہے ہیں جو کہ صرف اور صرف CPEC کی مرہون منت ہے۔ گلگت بلتستان کی مستقبل کا دار و مدار CPEC پر ہے کیونکہ یہ منصوبہ یا تو عالمی مداخلت سے گلگت بلتستان کی آزادی و خود مختاری کا سبب بنے گا یا گلگت بلتستان کی تباہی و بربادی کا شاہراہ ثابت ہوگا۔ اس بات کا فیصلہ ہونے میں اب وقت نہیں لگے گا کیونکہ پاکستان چین اقتصادی راہداری گلگت بلتستان کے سینے سے گزرنے والی ہے اور انڈیا گلگت بلتستان کارڈ (Gilgit Baltistan Card)کھیلنے کے لئے عالمی کھلاڑیوں سے ساز بازکرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری میں گلگت بلتستان کا حصہ ہو یا نہ ہو البتہ گلگت بلتستان CPEC کا حصہ ضرور ہے ۔ آج اگرپاکستان کی حکومت گلگت بلتستان کے لوگوں سے زندہ باد یا مردہ باد کے نعرے لگوا رہی ہے یا بھارت کے صدر ناریندر مودی اپنی خطاب میں گلگت کا ذکرکرتا ہے تو یہاں کے عوام سے ہمدردی میں نہیں بلکہ یہ دو روایتی حریفوں کی سرد جنگ (Proxy War) کی جھلکیاں اور میڈیا وار(Media War) کا تسلسل ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سیاسی بیانات پرگلگت بلتستان کے عوام کو کسی بھی خوش فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ" دو مولوی کے درمیان مرغی حرام" کے مصداق گلگت بلتستان کسی بھی وقت ان دو حریف ریاستوں کی مفادات کی بھینٹ چڑھ سکتی ہے اور جنگی جنون کا نشانہ بن سکتاہے۔گلگت بلتستان کے عوام کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی بقاء و سلامتی کا راستہ تلاش کرے یہ راستہ گلگت بلتستان اقتصادی راہداری(GBEC) کا منصوبہ ہی ہو سکتا ہے۔ 
گلگت بلتستان اقتصادی راہداری (Gilgit Baltistan Econmic Corridor) تصوراتی کہانی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی عملی منصوبہ ہے ۔گلگت بلتستان اقتصادی راہداری ( جی بیک) گلگت بلتستان کو ہمسایہ ملکوں کی سیاسی و عسکری استحصالی پالیسیوں سے نجات دلانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔گلگت بلتستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ گلگت بلتستان کی آزادی و خود مختاری اور یہاں کے بیس لاکھ مظلوم و محکوم عوام کی بقاء و سلامتی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔ گلگت بلتستان کے عوام کو CPEC میں حصہ مانگنے کے بجائے اپنی قومی تشخص کے ساتھ گلگت بلتستان اقتصادی راہداری منصوبے پر کام کروانے کے لئے اجتماعی جد و جہد کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ 
CPEC پر ہونے والی عالمی سازشوں اور اس کے پس منظر میں ہمسایہ ملکوں کے درمیان جنگ کے بڑھتے ہوئے خدشات اور بین الاقوامی طاقتوں کی اس آڑ میں گلگت بلتستان میں مداخلت کے مبینہ امکانات کو روکنے کے لئے گلگت بلتستان اقتصادی راہداری منصوبے) (GBEC کو عملی جامہ پہنانے کی اشدضرورت ہے۔ گلگت بلتستان اکنامک کوریدور منصوبے کو قابل عمل اور قابل قبول بنانے کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں گلگت بلتستان میں" آزاد و خود مختار ریاستی اسمبلی" کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے ۔ گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز State Subject Rules 1927))کو فوری نافذالعمل کرکے مقامی آبادی کو اقلیت میں بدلنے اور لوگوں کی ملکیتی زمینوں کو بیرونی قبضے سے بچانے کے لئے قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان چین بھارت اور افغانستان کو ایک معاہدے کے ذریعے گلگت بلتستان کی سرحدوں کی پاسداری کرنے کا پابند بنا کر خطے کو غیر جنگی علاقہ(No War Zone) بنایا جا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان کی تشخص ، آزادی ، خود مختاری اور سا لمیت کی بین الاقوامی گرانٹی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے دلائی جا سکتی ہے۔ گلگت بلتستان،آزاد کشمیر، پاکستان ، چین ،انڈیا، افغانستان ، اور تاجکستان پر مشتمل گلگت بلتستان اکنامک کوریڈور فورم کا قیام عمل میں لاکر گلگت بلتستان اکنامک کوریڈور منصوبے پر کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ 
گلگت بلتستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ اپنی انفرادیت اور افادیت کے پیش نظر ایک غیر متنازعہ منصوبہ ہوگا جس میں نہ صرف متنازعہ کشمیر کے سٹیک ہولڈرز شامل ہونگے بلکہ گلگت بلتستان کے تمام ہمسایہ ممالک برابری کی بنیاد پرشامل ہو سکیں گے، گلگت بلتستان اقتصادی راہداری جس طرح چین کو خلیجی ملکوں تک رسائی دے گی اسی طرح سینٹرل ایشین ممالک کو پاکستان، انڈیا اور بحرۂ ہند سے ملائے گی۔یہ خطہ وسطی ایشیائی ممالک اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے گا۔گلگت بلتستان اکنامک کوریڈور ایک غیر متنازعہ اور موثر اقتصادی راہداری کا منصوبہ ہوگاجس کے معاشی فوائد CPEC سے ہزار گنا زیادہ ہو گا ۔گلگت بلتستان اکنامک کوریڈور منصوبے کے ذریعے چین کو پاکستان، انڈیا اور کشمیر، پاکستان کو افغانستان اورتاجکستان ، افغانستان کو چین اور انڈیا ،کشمیر کو چین، تاجکستان اور افغانستان، انڈیاکو چین اور تاجکستان، جبکہ گلگت بلتستان کو تمام ہمسایہ ملکوں سے ملایا جا سکتا ہے ۔گلگت بلتستان اکنامک کوریڈور زمختلف ممالک کو اسطرح ایک دوسرے سے زمینی راستوں کے ذریعے منسلک کرے گی۔( تصویری خاکہ دیکھیں)
گلگت بلتستان اکنامک کوریڈورمنصوبے میں زمینی راستوں کے علاوہ فضائی راستے بھی شامل کئے جا سکتے ہیں ، سکردو ، گلگت ، دوشنبے، کاشغر، کابل، اسلام آباد، مظفر آباد اور سر ی نگر ائر پورٹس کو انٹر نیشنل ائیرپورٹس کا درجہ دے کر ائیر ٹریڈ (Air Trade)کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف ہمسایہ ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ باہمی تعلقات کو بھی فروغ ملے گا جس سے تمام ممالک کے عوام خوشحالی ہونگے ۔گلگت بلتستان اکنامک کوریڈور سے بین الملکی سیاحت کے شعبے کو فروغ ملے گا جس سے کروڑوں ڈالرزکا زر مبادلہ حاصل ہوگا۔اس راہداری منصوبے سے گلگت بلتستان معاشی حب (Economical Pivot)بن جائے گا ۔ یہاں کے عوام کی بنیادی و انسانی حقوق کو تحفظ ملے گا، معاشی حالت میں بہتری آئے گی اور گلگت بلتستان عالمی تجارتی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔ گلگت بلتستان کی انتظامی امور چلانے کے لئے حکومت پاکستان کو گرانٹ دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ اس اقتصادی راہداری کی آمدنی گلگت بلتستان کی سالانہ ترقیاتی بجٹ سے لاکھ گنا زیادہ ہوگا۔
گلگت بلتستان اکنامک کوریڈور صدیوں پرانی تجارتی راستہ " شاہراہ ریشم کی احیا ء نو (Renevation of Silk Routes) ہے ۔ جو 1947ء سے عوامی نقل و حمل اور تجارت کے لئے ممنوع قرار دیے جا چکے ہیں۔ گلگت بلتستان اکنامک کوریڈور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے ، پاکستان بھارت چین اور افغانستان کے تعلقات کو خوشگوار بنانے اور گلگت بلتستان میں بین الاقوامی مداخلتوں کا راستہ روکنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ جس سے چار ہمسایہ ایٹمی ممالک کے درمیان ایٹمی تصادم کا خطرہ ٹل سکتا ہے ۔ سب سے بڑ ھ کرگلگت بلتستان اکنامک کوریڈورپاکستان ، چین ہندوستان ، افغانستان اور تاجکستان میں بسنے والے اربوں انسانوں کو امن و سکون اور
آشتی سے زندگی گزارنے کے لئے وسائل کی فراہمی کا عالمی منصوبہ ثا بت ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ چین ، پاکستان ، انڈیا، تاجکستان اورافغانستان اس عالمی معاشی راہداری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں تاکہ گلگت بلتستان اکنامک کوریڈور منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر سیاسی و معاشی فوائد حاصل کیا جا سکے۔گلگت بلتستان کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ CPEC کا"حصہ دار" بننا چاہتی ہے یا GBEC کا" مالک" کہلانا چاہتی ہے۔۔

Monday, August 22, 2016

Gilgit Baltistan: Rights abuses


Gilgit Baltistan land of atrocities

Gilgit Baltistan land of atrocities

For the last about three decades, hundreds of political leaders and rights defenders have faced state brutalities besides fabricated cases in the disputed territory of Gilgit-Baltistan. Ironically, with the passage of time there seems no improvement in the situation and the rights abuses go on unabated in the region. There are a number of political activists who are still behind bars simply for raising voice for the rights of the two million people of Gilgit-Baltistan. Besides, scores others are entangled in the never-ending and nerve-breaking process of facing court cases. Syed Haider Shah Rizvi, one of the most prominent nationalist leaders from Skardu, passed away while defending himself in one such concocted case.
Manzoor Parwana, the chief of the Gilgit-Baltistan United Movement, was booked in a treason case on July 28, 2011, and after the passage of about five years this case is still progressing at a snail's pace and is its initial stage. The state is deliberately trying to delay the case even though Manzoor Parwana has been very regular to pursue the matter and attends each and every hearing regularly. Mr Parwana is charged with putting the security of the country at a stake by demanding the reopening of the old Skardu-Kargil road.
 Progressive youth leader Baba Jan and Iftikhar Karbalai have been awarded life imprisonment after being booked under the anti-terrorism act for raising voice and leading rallies for the rights of the people displaced by the Attabad Lake. They are at the moment languishing in the district jail of Kahguch in Ghizer.
A leader of the Ghizer Youth Congress, Tahir Ali Tahir, has also been booked in another treason case for struggling to ensure the basic rights of the people of Gilgit-Baltistan. Another treason case is under adjudication in the chief court of Gilgit-Baltistan against Karakorum National Movement chief Javed Hussain , Mumtaz Nagri, Taaruf Abbas and their colleagues. The Balor Research Forum leaders Engineer Amanullah and Sulatan Madad , Right activist Hidayatuual Akhtar, GBJM Chairman Shujjat Ali, Secretary General GBDA Burhan Ullah , AWP leader Wajid Ali, GBNM Chairman Dr. Ghulam Abbas and dozens of others political activists are also booked in sedition charges.  They are charged with presenting a memorandum to the UN observers in the Gilgit city about the issues facing the people of Gilgit-Baltistan.
 The, scores of political activists and nationalist leaders including Col retired Nadir Khan, Safdar Ali, Iftikhar Hussain, Waseem and others were rounded up by the police and put in jail for trying to hand over a memorandum to the UN observers in the city regarding the public reservations over the China Pakistan Economic Corridor.
Recently Muhammad Qayoom of Balawaristan National Front was sent to prison on participating in a public protest on the boundary issue with KPK. It is very disturbing to note that all these political activists and rights defenders were booked under the anti-terrorism act and treated as terror suspects for raising voice for the rights of the people of the region.

(The nationalist leaders appeared before the court in Gilgit on 20 August 2016.See the photo)

Wednesday, February 24, 2016

CPEC incredible sans consent of Gilgit Baltistan people: Manzoor Parwana

Chairman of the Gilgit Baltistan United Movement (GBUM) Engineer Manzoor Parwana has said that the stance of the nationalist parties was very clear on the CPEC. We are one of the three major parties to the project .China and Pakistan should consider Gilgit Baltistan the third party in the CPEC and given our shares as such. He said Gilgit Baltistan is a disputed territory and it is neither a part of China nor Pakistan. As the area has its own distinct cultural and historical identity, without including it in the CPEC project as a partner, none of the two countries – China and Pakistan – can construct and operate the CPEC route through Gilgit Baltistan. He also demanded that economic zones should be set up in Gilgit, Skardu and Chilas under the CPEC. He said that the nationalists were not worried about making Gilgit Baltistan the fifth province of Pakistan and if Islamabad wants to make it its province the rulers would damn care to ask the nationalist about it but it is very clear that Pakistan backs the stance of the nationalist as far as making Gilgit-Baltistan a constitutional province of Pakistan is concerned. He said Pakistan cannot make Gilgit Baltistan a province as it would negate its long-standing stance and policy on the issue of Kashmir. On the other hand, federalist political and religious parties have for long been demanding that Gilgit Baltistan should be made a province of Pakistan but under any international law their demand cannot be met.
The GBUM chief said that that making Gilgit Baltistan a province was not the solution to the issues being faced by the people of the region. Had it been the case, the people of Balochistan would have been better off and not picked up arms against Pakistan for denying them their rights. The resolution of the issues lies in recognizing and preserving the unique identity of Gilgit Baltistan and empowering the indigenous people to utilize their own resources on their development without interferences from outside, he added. He said that Gilgit Baltistan fulfilled all the requirements to become a state and there was a need to give the area internal autonomy until the resolution of the issue of Kashmir. The GBUM chief also said that the nationalist always talked on the basis of historical evidence and facts. He said the nationalists neither consider Gilgit Baltistan as a part of AJK, Srinagar nor Pakistan and India. “We consider Gilgit Baltistan a part of the state of Maharaja Hari Singh and as Kashmir is on the agenda of the UN as a disputed territory, Gilgit Baltistan is party to that international dispute, accepted by India and Pakistan as well as the whole world as such.” He said for over seven decades, Islamabad could not make Gilgit Baltistan a part of the country. Keeping this view in mind, it is clear that the disputed territory is not part of any country and has its own geographical, political and historical significance and identity, he added. He said the region was at a cross road ad if the people of Gilgit Baltistan played the game judiciously, their future would be bright otherwise we would lose a chance and our future generations would be facing the same turmoil and ambiguity as we have been in the mess for over six decades.
He said that the China Pakistan Economic Corridor (CPEC) would pass through the territory of Gilgit Baltistan but despite this the area was not given its due shares and benefit. Instead of smoke and environmental pollution, he claimed, the people of Gilgit Baltistan would get nothing from the mega international project. He maintained that the nationalist political parties always thought of the benefit of the people of Gilgit Baltistan but unfortunately this CPEC project is not in the interest of the people.
The GBUM chief said that in the eyes of the nationalist political parties elections in the disputed territory have no legal status and neither these sham polls can ever be the expression of the sentiments of the people of the region. In an exclusive interview with this newspaper, the GBUM chief said the elections have never been a process to elect the true representatives of the people rather these were a process used by the successive rulers sitting in Islamabad to choose their cohorts and cronies and install in the area to loot and plunder the resources of the people. He said whenever these sham elections are held, the nationalist political parties are not allowed to take part in it freely and neither the people are given a chance to vote for them. On many occasions, nationalist leaders were bundled up and vanished from Gilgit-Baltistan or put in jail a few days before the elections in order to give a free hand to the agents of the rulers to rig the polls and brig in their own people.
Manzoor Parwana said after last year’s elections, many people think that the nationalists have remained silent but their silence can become a catalyst for a larger revolution in the region anytime as there is always a lull before a deluge. He said there was a time when nationalists were declared traitor whenever they spoke for the national cause but now even the federal government and the chief minister of Gilgit Baltistan are speaking the language of the nationalists. Everyone in Gilgit Baltistan is now supporting the stance of the nationalists and when the whole world is speaking the language of the nationalists, headed; it was the need of the hour that the nationalists should remain silent.

Reference Link - See more at: http://brooshaaltimes.com/elections-disputed-territory-legal-values/#sthash.MRx9GUEV.dpuf

Saturday, February 20, 2016

Gilgit Baltistan: A buffer state of Asia....


http://www.islamtimes.org/ur/doc/interview/522156/
اسلام ٹائمز: اپنے ایک انٹرویو میں گلگت بلتستان کے معروف قوم پرست رہنماء کا کہنا تھا کہ چار ایٹمی طاقتوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھنے، سینٹرل ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کو محتاط فاصلے سے ملانے کے لئے گلگت بلتستان ایک بفر ریاست کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ گلگت بلتستان مستقبل کی ایک آزاد ریاست ہے۔ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے، گذشتہ 70 سالوں میں پاکستان چاہتے ہوئے بھی گلگت بلتستان کو اپنے اندر جذب نہیں کرسکا ہے، اس سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس 


خطے کی عالمی سطح پر کتنی اہمیت ہے۔


منظور پروانہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں، تاہم ان کی پہچان گلگت بلتستان کے قوم پرست سیاسی رہنماء کی حیثیت سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا آغاز اس وقت کیا جب وہ اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ نویں جماعت میں بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی ممبر شپ اختیار کی۔ 1999ء میں BSF کے مرکزی صدر کی ذمہ داری سنبھالی۔ 2006ء میں گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 2009ء میں اور حالیہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبر کے لئے اسکردو حلقہ 4 سے الیکشن میں حصہ لیا۔ 2010ء میں گلگت بلتستان کی حکومت نے انہیں بغاوت کے مقدمہ میں جیل بھیج دیا۔ منظور پروانہ صحافی، تجزیہ نگار، مقرر اور شاعر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں، لیکن ان کی مقبولیت کی بنیادی وجہ انکا گلگت بلتستان کو ایک "آزاد ریاست" بنانے کا نظریہ ہے۔ وہ مشہور میگزین "کرگل انٹرنیشنل" کے چیف ایڈیٹر بھی رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ان سے گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال پر ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو محترم قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد قوم پرست جماعتیں منظر سے غائب کیوں ہوگئی ہیں۔؟
منظور پروانہ:
 
انتخابات کی قوم پرست جماعتوں کی نظر میں کوئی قانونی حیثیت نہیں اور نہ ہی انتخابات گلگت بلتستان کی عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انتخابات گلگت بلتستان میں عوامی نمائندوں کی چناؤ کے لئے نہیں ہوتے بلکہ حکمران جماعت کی حکومت قائم کرنے اور گلگت بلتستان کے وسائل کی لوٹ مار کے لئے ہوتے ہیں۔ قوم پرستوں کو نہ انتخابات میں آزادی سے حصہ لینے دیا جاتا ہے اور نہ ہی عوام کو ہمیں ووٹ دینے کی آزادی حاصل ہے۔ گلگت بلتستان میں قوم پرستوں کے حامیوں کو ہر قدم پر ہراساں کیا جاتا ہے، قوم پرست انتخابات کے بعد خاموش نہیں ہیں بلکہ ہماری یہ خاموشی ایک طوفان کا پیش خیمہ بن چکی ہے۔ جب قوم پرست بولتے تھے تو وہ غدار کہلاتے تھے، اب وفاقی حکومت اور وزیراعلٰی گلگت بلتستان بھی قوم پرستوں کی زبان میں بات کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کا ہر باشعور فرد قوم پرستوں کا حامی نظر آرہا ہے۔ جب دنیا قوم پرستوں کے موقف سے متفق ہو رہی ہو، ان حالات میں قوم پرستوں کا خاموش رہنا ہی دانشمندی ہے۔

اسلام ٹائمز: قوم پرست جماعتوں کو پاکستان چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے کیا تحفظات ہیں۔؟
منظور پروانہ:
 
پاکستان چین اقتصادی راہداری گلگت بلتستان سے گزرتی ہے، گلگت بلتستان کو نظر انداز کرکے اس اقتصادی راہداری کو اس خطے سے گزارا جا رہا ہے۔ اس اقتصادی راہداری سے گلگت بلتستان کے عوام کو ایک پیسے کا بھی فائدہ نہیں، گلگت بلتستان کے عوام کو دھواں اور گرد کے علاوہ اس منصوبے سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے قوم پرست گلگت بلتستان کے عوام کی مفاد کا سوچتے ہیں، یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے عوام کی مفادات کی عکاسی نہیں کرتا، اس لئے قوم پرستوں کے تحفظات جائز ہیں۔ ہمارا موقف پاکستان چین اقتصادی راہداری پر واضح ہے کہ اقتصادی راہداری میں گلگت بلتستان کو تیسرے فریق کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے، متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس خطے کی اپنی تاریخی و جغرافیائی اہمیت ہے۔ گلگت بلتستان نہ چین کا حصہ ہے اور نہ ہی پاکستان کا، اس لئے پاکستان اور چین کا اس خطے کو مائنس کرکے اقتصادی راہداری کے منصوبے کو آگے بڑھانے کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو اقتصادی راہداری میں ایک فریق کے طور پر تسلیم کیا جائے، ساتھ ہی چیلاس، اسکردو اور گلگت میں اقتصادی زون بنایا جائے۔

اسلام ٹائمز: آئینی طور پر گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بننے میں کیا قباحت ہے، جسکی قوم پرست جماعتیں مخالفت کرتی نظر آرہی ہیں۔؟
منظور پروانہ:
 قوم پرستوں کا موقف روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ نہیں بن سکتا۔ قوم پرستوں کو گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بننے سے کوئی پریشانی لاحق نہیں اور پاکستان بنانا چاہے تو قوم پرستوں سے پوچھ کر نہیں بنائے گا۔ حکومت پاکستان آئینی صوبے کے معاملے پر قوم پرستوں کے موقف کی حمایت کرتی ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کا اٹوٹ انگ ہے، اس لئے یہ پاکستان کا صوبہ نہیں بن سکتا۔ اس کے باوجود وفاق پرست سیاسی و مذہبی جماعتیں صوبے کی رٹ لگاتی نظر آتی ہیں، جو کہ گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ صوبہ عوامی مسائل کا حل نہیں ہوا کرتی، اگر صوبہ بننے سے عوام خوشحال ہوتی تو بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، وہاں بڑی ترقی و خوشحالی ہوتی جبکہ وہاں کے عوام احساس محرومی کا شکار ہیں۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی نہیں جبکہ اس خطے کی قومی و ملی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں کے وسائل کو یہاں کے عوام پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان ایک ریاست کے معیار پر پورا اترتا ہے، اس لئے اس خطے کو تنازعہ کشمیر کے حل تک اندورنی خود مختاری دینے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی لکھا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو اندرونی خود مختاری دی جائے۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا کسی بھی صورت یہاں کے عوام کی مفاد میں نہیں، گلگت بلتستان کے عوامی مفادات کے خلاف ہونے والی ہر سازش کی مخالفت ہونی چاہیے۔

اسلام ٹائمز: قوم پرست جماعتیں کس بنیاد پر گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ سمجھتی ہیں۔؟
منظور پروانہ:
 قوم پرست جماعتیں ہمیشہ تاریخی حقائق اور دلائل کے ساتھ بات کرتی ہیں، ہم گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کا حصہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں، نہ انڈیا کا حصہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی سری نگر کا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان موجودہ عالمی منظرنامے میں مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست جموں و کشمیر کا متنازعہ حصہ ہے، چونکہ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے، اس لئے گلگت بلتستان بھی اس تنازعے کا حصہ ہے، جسے پاکستان، بھارت سمیت پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں، آزاد کشمیر ریاست کے زیرانتظام نہیں، سری نگر اور نئی دہلی کی راجدانی میں شامل نہیں۔ گلگت بلتستان کا کسی بھی ملک میں شامل نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ گلگت بلتستان علٰیحدہ قومی تشخص کی حامل ریاست ہے۔ اس کے علٰیحدہ قومی تشخص پر کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔ گلگت بلتستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جس دن یہاں کے باسی گلگت بلتستان کے قومی سوال اور اس کا جواب سمجھ پائیں گے، اس دن ہر فرد قوم پرستوں کی صف میں ہونگے اور صوبے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مظفر آباد، سری نگر، گلگت اور لداخ ایک ہی مقدمے کے فریق ہیں۔ ان چاروں کو مسئلہ کشمیر نامی مقدمہ مل کر لڑنا ہے، جب اس مقدمے کا فیصلہ آئیگا تو ہم چاہیں تو اکٹھے رہ سکتے ہیں اور نہ چاہیں تو الگ الگ رہ سکتے ہیں، لیکن مقدمہ سب کو مل کر ہی لڑنا ہوگا۔ تنازعہ کشمیر کو حل ہونے کے بعد فریقین کو تقسیم کیا جاسکتا ہے، لیکن خطے کو تقسیم کرکے مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان میں ایک طرف امریکہ سرمایہ کاری میں مصروف ہے اور دوسری طرف چائنہ، آپ کس ملک کو گلگت بلتستان کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔؟
منظور پروانہ:
 امریکہ اور چین دونوں حکومت پاکستان کی اجازت اور مرضی سے گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کی منظوری کے بغیر کوئی امریکن یا چینی گلگت بلتستان نہیں آسکتا، ایسی صورت حال میں اگر ہم کسی ملک کو خطرہ سمجھے تو یہ اینٹی پاکستان کے زمرے میں آئے گا۔ بھلا میری کیا مجال ہے کہ میں امریکہ اور چین کو گلگت بلتستان کے کے لئے خطرہ سمجھوں، جو کہ حکومت پاکستان کے اتحادی اور معاشی پارٹنر ہیں، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے۔

اسلام ٹائمز: آپ گلگت بلتستان کے مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
منظور پروانہ:
 گلگت بلتستان مستقبل کی ایک آزاد ریاست ہے۔ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے، گذشتہ 70 سالوں میں پاکستان چاہتے ہوئے بھی گلگت بلتستان کو اپنے اندر جذب نہیں کرسکا ہے، اس سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس خطے کی عالمی سطح پر کتنی اہمیت ہے۔ یہ خطہ عالمی گریٹ گیم کا محور ہے، یہ ایک بفر اسٹیٹ بن سکتا ہے، کیونکہ چار ایٹمی طاقتوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھنے، سینٹرل ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کو محتاط فاصلے سے ملانے کے لئے گلگت بلتستان ایک بفر ریاست کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ عالمی طاقتیں گریٹ گیم کے کھلاڑی ہونگے۔ گلگت بلتستان کے عوام اچھا کھیلیں گے تو مستقبل تابناک ہوگا، تماشائی بنے رہیں گے تو انجام انتہائی دردناک ہوگا۔ ہمیں کم از کم 1947ء والی غلطی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ریاستوں کو چلانے کے لئے ایک طاقتور آرمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آئرلینڈ دنیا کا پرامن ملک ہے، جس کی کوئی آرمی نہیں اور نہ ہی اس ملک کو بیرونی جارحیت کا خطرہ ہے۔

Saturday, February 13, 2016