Saturday, May 9, 2020

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, May 8, 2020

History of Gilgit Baltistan: Occupation to Disputed Status



گلگت  بلتستان، مفتوحہ سے متنازعہ
منظور حسین پروانہ چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ مؤمنٹ
گلگت  بلتستان کی کہانی بھی کسی عجوبہ سے کم نہیں ہے،ڈوگرہ سامراج کی غلامی میں تقریبا  109 سال گزرنے کے بعد اس خطے کو یہاں کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت آزادی دلائی اور ڈوگرہ راج کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر کے گلگت  بلتستان کو مقبوضہ خطہ سے مفتوحہ خطے میں تبدیل کردیا۔یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ جب کوئی خطہ یا علاقہ فتح کر لیا جاتا ہے تو اسے اپنی ریاست میں شامل کر لیا جاتا ہے اور جب کوئی ریاست وجود میں آتی ہے تو قومی حکومت بنائی جاتی ہے۔ ڈوگروں سے لی گئی فتح کو قانونی شکل دینے کے لئے اپنی خود مختار اور آزاد ریاست کی بنیاد رکھی گئی اور قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ راجہ گلگت شاہ رئیس خان کو نومولود جمہوریہ گلگت کا پہلا صدر منتخب کیا گیا اور کرنل حسن خان کو کمانڈ ان چیف بنایا گیا۔ عبوری ریاست کی تشکیل پایہ تکمیل کو پہنچا  اور یوں گلگت  بلتستان یکم نومبر 1947 ء کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر وجود میں آئی۔ یہ پاکستان اور انڈیا کے بعد وجود میں آنے والی تیسری خود مختار اور آزاد ریاست تھی۔
                یہاں کی قیادت کی خواہش کہے یا میجر براؤن کی سازش اس  آزاد خطے کو پاکستان میں شامل کر نے کے لئے الحاق کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور  16 نومبر1947ء کو حکومت پاکستان نے اپنا نمائندہ سردار محمد عالم خان کو جانکاری کے لئے گلگت بھیجا۔سردار عالم خان نے گلگت پہنچتے ہی بھانپ لیا کہ یہاں کے عوام پر حکومت کرنا انتہائی آسان ہے، انھوں نے آتے ہی صدر مملکت کو فارغ کر دیا اور حکومت پاکستان کا ملازم لگا دیا اور خود پولیٹیکل ایجنٹ کی حیثیت سے اس آزاد خطے کا سربراہ بن گیا۔ان تمام کاروائی کو کسی بھی طرح سے قانونی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی یہاں کے عوام کی توجہ اس طرف گئی کہ مستقبل قریب میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، عوام کو یہی بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے آپ کا الحاق قبول کرتے ہوئے اس خطے کو جموریہ گلگت سے گلگت ایجنسی میں تبدیل کر دیا ہے اور اپنا نمائندہ یہاں کی نظم و نسق سنبھالنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ کرنل حسن خان کی طرف سے اس اقدام پر مزاحمت کرنے کی کوشش بھی ہوئی جسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر دبایا گیا۔
یہ دنیا کا دوسرا مسلمہ اصول ہے کہ اگر کوئی ملک اپنی وجود کو برقرار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا تو کسی قریبی ملک میں ضم ہو جاتا ہے، پاکستان میں الحاق کی با قاعدہ کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ مفتوحہ خطے کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے اور پاکستان کی آئین میں شامل ہو۔16 نومبر کو آزاد جمہوریہ گلگت عارضی طور پر پاکستان کی انتظامی کنٹرول میں آچکی تھی۔گلگت  بلتستان اب ایک مفتوحہ اور آزاد ریاست سے دوسری ریاست پاکستان میں ضم ہونے کی طرف جا رہا تھا  اور یہاں کے عوام پاکستان کا آئینی اورپاکستان کی طرف سے الحاق کی قبولیت کا منتظر تھی کیونکہ عوام سمجھتی تھی کہ گلگت  بلتستان کا مستقبل اب پاکستان کی انکار اور اقرار پر منحصر ہے، ہاں کی صورت میں گلگت  بلتستان نے پاکستان ہونا تھا نہ کی صورت میں گلگت بلتستان کی عارضی ریاستی حکومت کو چلانے اور اپنی آزادی کو قائم رکھنے کے لئے حکمت عملی مرتب کرنا تھا کیونکہ یہاں کے عوام مہاراجہ ہری سنگھ کی راجدانی سے اپنے
 خطے کو آزادی دلا چکی تھی اور واپسی کی کوئی صورت ممکن نہیں تھا۔
حکومت پاکستان نے گلگت  بلتستان کا انتظامی کنٹرول عارضی طور پر اپنے پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے ہاتھوں میں لیا تھا تا ہم الحاقی خط کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی اثناء میں مہاراجہ کے الحاق نامہ کو لے کر بھارت سلامتی کونسل میں چلا گیا، سلامتی کونسل نے پاکستان کو ہری سنگھ کی ریاست میں مداخلت کی بابت ثمن کیا تو حکومت پاکستان بھی اقوام متحدہ میں پیش ہو گئی اور ان دونوں ممالک UNCIP کی تشکیل پر رضامندہوئے اور UNCIP کی پہلی قراردا د 13 اگست 1948 پر عمل در آمد کی حامی بھر لی گئی۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی منظوری کے بعد گلگت  بلتستان کی پاکستان سے الحاق  کی خواہش کا سنہرا اور  بلا مشروط باب تنازعہ کشمیر کا حل نکلنے تک کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا کیونکہ گلگت  بلتستان مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست جموں و کشمیر کی ایک اکائی تھی، کیونکہ پورا جموں و کشمیر متنازعہ بن گیاتھا۔ جب مہا راجہ کی الحاق کو قانونی حیثیت مل گئی تو ماتحت راجوؤں کی الحاق خود بخود کالعدم ہو گئی۔
                 حکومت پاکستان کے پاس دو آپشن تھے پہلا کہ سردار محمد عالم کو واپس بلا کر جمہوریہ گلگت کو تسلیم کرے، دوسرا گلگت  بلتستان کو بھی متنازعہ خطہ تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھے۔  لہذا دوسرے آپشن کو اپنایا گیا۔ حکومت پاکستان کے پالیسی سازوں کی سوچ تھی کہ اگر ہم گلگت  بلتستان کی یکم نومبر 1947ء کی حکومت کو قبول نہ کرے  تو گلگت  بلتستان متنازعہ ہی رہے گا اور یہاں کے عوام کی ووٹ بھی کشمیر پر استصواب رائے کی صورت میں ہماری کام آئے گی۔ اسی وجہ سے گلگت  بلتستان کی الحاق کی یک طرفہ کوشش مسترد ہوئی۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے فوری بعد حکومت پاکستان نے معاہدہ کراچی کو ڈیزائن کر کے گلگت  بلتستان پر متنازعہ خطے کی حیثیت میں اپنا انتظامی گرفت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کو فوقیت دی۔ اس معاہدے کے سامنے آنے کے بعد گلگت  بلتستان کی مفتوحہ حیثیت اب متنازعہ حیثیت میں تبدیل ہو گیا۔گلگت  بلتستان کی نہ یکم نومبر کی آزاد حیثیت  میں رہی اور نہ ہی پاکستان سے الحاق کا خواب پورا ہوا۔
                 گلگت  بلتستان آج 73 سال گزرنے کے بعد بھی اپنی پہچان سے خالی ہے، بھارت کے زیر اتظام لداخ جو کہ گلگت  بلتستان کا جز ہے، پھارت میں باقاعدہ ایک یونین ٹیریٹری کی حیثیت رکھتی ہے، لوک سبھا اور راج سبھا میں وہاں کے عوام کو نمائندگی حاصل ہے،لیکن گلگت  بلتستان دنیا کی کسی بھی ملک کا آئینی حصہ نہیں ہے اور نہ ہی گلگت  بلتستان کی اپنی کوئی آئین ہے۔ گلگت  بلتستان کی قسمت دیکھے کہ یہ خطہ ایک مقبوضہ خطہ سے مفتوحہ خطہ بن  چکا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے متنازعہ خطہ بن گیا۔ ہماری جیتی ہوئی بازی کوہم نے ہی ہرا دیا اور آج ہم شطرنج کے مہرے بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہماری حیثیت پر بات چیت کا تبادلہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان ہوتا ہے، انڈین گلگت  بلتستان کو اپنی حصہ کہتی ہے تو حکومت  پاکستان گلگت  بلتستان کو متنازعہ کہتی ہے  حال ہی میں سپریم کورٹ کا گلگت  بلتستان میں الیکشن بارے فیصلہ آنے کے بعد انڈیا نے اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت  بلتستان اس کا اٹوٹ انگ ہے، حکومت پاکستان نے بھارت کی احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی موقف کا اعادہ کیا ہے کہ پوری ریاست جموں و کشمیر بشمول گلگت  بلتستان  ایک متنازعہ خطہ ہے۔کس کا موقف کمزور ہے اور کس کا موقف جاندار ہے یہ گلگت  بلتستان کی عوام کا مسئلہ نہیں ہے، گلگت  بلتستان کی یکم نومبر 1947کی  خود مختار اور خود اختیاراتی حکومت کی بحالی ناگزیر ہو چکی ہے جوکہ اقوام متحدہ کہ قراردادوں سے ہم آہنگ بھی ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی انتظامی سیٹ اپ،حکم نامہ یا کورٹ کا فیصلہ گلگت  بلتستان کی عوامی حقوق کا نعمالبدل نہیں ہو سکتی۔ 


Gilgit Baltistan and Karachi Agreement


معاہدہ کراچی ختم ہوا تو گلگت  بلتستان کی پوزیشن کیا ہوگی؟
منظور پروانہ چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ
معاہدہ کراچی کانام سنتے ہی گلگت  بلتستان اور آزاد کشمیر کے جوانوں کا خون جوش  مارنے لگتا ہے، گلگت  بلتستان کے عوام اس معاہدے کو لے کر کشمیر کے عوام سے نفرت کا ایک طوفان اپنی دل میں سمیٹے  ہوئے ہیں، اور کشمیریوں کو گلگت  بلتستان کی غلامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، ان کو خوش فہمی ہے کہ اگر معاہدہ کراچی نہ ہوئی ہوتی تو گلگت  بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ ہوتا  جبکہ اس معاہدے کو لے کر کشمیر کے عوام بھی اس وقت کی کشمیری قیادت کو وطن فروش اور غدار قرار دیتی ہے کیونکہ ان کو غلط فہمی ہے کہ معاہدہ کراچی کی غلطی نہ کرتے تو گلگت  بلتستان آزاد کشمیر حکومت میں شامل ہوتی۔
 ہم 73 سال پہلے کی قیادت کو قصور وار ٹھہرانے اور عوام کو بے شعور کہنے کی بجائے اس معاہدہ کو 28 اپریل2020 کی تاریخ میں دیکھتے ہیں، سردار ابراہیم اور سردارغلام عباس کی جگہ فاروق حیدر اور سردار عتیق ہیں، اور حکومت پاکستان کے نمائندے مشتاق گورمانی کی جگہ امین گنڈا پوری ہے، اقوام متحدہ سے استصواب رائے کی قرارداد آ چکی ہے، اور حکومت پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ووٹ لے کر  پورے کا پوراجموں و کشمیر حاصل کر سکے۔ دوسری طرف صدر گلگت بلتستان شاہ رئیس خان کی جگہ قاری حفیظ کو رکھ لیتے ہیں۔امین گنڈا پوری معاہدہ کراچی کو من عن دوبارہ کمپیوٹڑ سے لکھ کر فارق حیدر اور سردار عتیق اورحفیظ الرحمن کو اس معاہدے پر پاکستان کی ؑعظیم تر قومی مفاد اور قومی سلامتی کے پیش نظر اس پردستخط کرنے کو کہتا ہے تو ان تینوں کا کیا رد عمل ہوگا۔اس میں کوئی دو رائے کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ موجودہ معروضی حالات کے تناظر میں یہ تینو ں سیاسی و عوامی منتخب قیادت ایک لمحہ ضائع کئے بغیر معاہدہ کراچی پر دستخط کریں گے۔ ان تینوں کا دستخط لئے بغیر بھی صدر پاکستان عارف علوی معاہدہ کراچی کو صدارتی آرڈیننس  2020 کی شکل میں جاری کرے تو بھی نہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت میں اتنی جرات ہے  کہ اسے ماننے سے انکار کرے اور نہ ہی یہاں کے عوام میں اتنی ہمت ہے کہ اسے مسترد کرے۔73 سال گزرنے کے بعد بھی ہماری قیادت اور عوام معاہدہ کراچی کو مسترد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور ہم مردے اکھاڑنے والی بیانات دے کر بڑے پھندے خان بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک بار پھر معاہدہ کراچی پر دستخط کرنے والوں کو گالیاں دینے سے پہلے اپنی گریباں میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہم
آج معاہدہ کراچی کو ختم کرنے کی پوزیشن میں کیوں نہیں ہیں؟  ہمارے اوپر تو معاہدہ کراچی سے بھی بدتر قسم کے آرڈر اور کالے قانون نافذ ہو چکی ہیں اور مسلسل نافذہو رہی ہے ہمارے اندر ان آرڈرز کو مسترد کرنے کی جرات کیوں نہیں؟ ہمارے پاس اس کالے قوانین کو نا منظور کہنے کی ہمت کیوں نہیں؟
                معاہدہ کراچی میں آزاد کشمیر کو کسی حد تک با اختیار رکھا گیا ہے، جو کہ آزاد کشمیر کی قیادت کی دانشمندی ہے، گلگت  بلتستان کو اس معاہدے میں شامل ہی نہیں رکھا گیا تھا کیونکہ حکومت پاکستان اس وقت گلگت  بلتستان کی قیادت کو اس اہل ہی نہیں سمجھتی تھی کہ ان سے اس معاہدے کی بابت رائے  لی جائے اور دوسری اہم بات یہ تھی کہ گلگت  بلتستان کی قیادت الحاق پاکستان کے نام پر خطے کی قیادت سردار محمد عالم کو تفویض کر کے فارغ ہو چکی تھی، پاکستان کی قیادت کو اپنی قیادت مان چکی تھی، معاہدہ کراچی میں کشمیری  قیادت نے گلگت  بلتستان کی نمائندگی نہیں کی ہے بلکہ حکومت پاکستان نے گلگت  بلتستان کی نمائندگی کی ہے، اس معاہدے میں صرف ایک پوائنٹ کے ذریعے حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کی قیادت کو بتایا کہ پا کستان پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت گلگت اور لداخ کے انتظامات کو چلائے گی، اس پر کشمیری قیادت نے مزاحمت اس لئے نہیں کی ہوگی کیونکہ آزاد کشمیر سے گلگت  بلتستان کی انتظامی معاملات کو سنبھالنا ممکن نہیں تھا، دوسری  وجہ حکومت پاکستان نے اس بات کی یقین دہائی کرائی تھی کہ گلگت  بلتستان کے انتظامی معاملات وزارت امور کشمیر کے ماتحت ہونگے، جس سے انتظامی طور پر گلگت  بلتستان آزاد کشمیر سے منسلک ہی تصور ہوگا۔
یہ معاہدہ گلگت  بلتستان کی اس وقت کی قیادت کے آنکھوں کے سامنے ہوا تھا جو یہ راگ الاپتے اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ ہم نے ڈنڈوں سے آزادی لی اور خط اور ٹیلی گرام دے کر قائد اعظم کو گلگت  بلتستان تحفے میں دیا اور بلا مشروط الحاق کیا،  گلگت  بلتستان کی الحاقی قیادت نے معاہدہ کراچی پر احتجاج کیوں نہیں کیا۔ یہ معاہدہ الحاق پاکستان کی نفی کرتی تھی، یہ معلوم ہوتے ہوئے اس پر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کی گئی۔ حکومت پاکستان کو خط کیوں نہیں بھیجا کہ گلگت  بلتستان کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے، حکومت پاکستان سے یہ پوچھنے کی ہمت کیوں نہ ہوئی کہ ہماری الحاق کا کیا بنا اور گلگت  بلتستان کو آئینی حقو ق دینے کے بجائے تنازعہ کشمیر سے کیوں جوڑا گیا ۔ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جنہیں تسلیم کرنے اور اپنی قومی قیادت کی کمزوریوں اور غلطیوں یا اپنی مجبوریوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کے بجائے ہم معاہدہ کراچی کو کشمیریوں کی سازش قرار دے کر اس معاہدے کے اصل کرداروں کو محفوظ راستہ دے رہے ہیں اور اعزازات لینے، مراعات لینے کے لئے لائن میں کھڑے ہیں،اپنی حب الوطنی کی زبانی دعوے کا بھرم رکھنے کے لئے ہم آج بھی حقائق سے چشم پوشی کر رہے ہیں اسی وجہ سے غلامی اور زہنی پسماندگی نے گلگت  بلتستان میں ڈھیرے جما لئے ہیں اور ہم آج بھی کٹھ پتلیوں کی طرح غیروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں نہ صرف کھیل رہے ہیں بلکہ ناچ بھی رہے ہیں۔
                چلئے فرض کر لیتے ہیں کہ اس وقت  ہماری قوم میں بہت شعور آچکی ہے، ہماری سیاسی و مذہبی قیادت بلوغت کو پہنچی ہے، ہم میں اتحاد و اتفاق موجود ہیں، ہم اپنے حقوق چھین کر لینے کے لئے آمادہ ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان معاہدہ کراچی کو ختم کرنے کے لئے ایک صفحے پر ہیں اور حکومت پاکستان بھی ہماری خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اس معاہدے کو ختم کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر حکومت پاکستان اس معاہدے سے دستبردار ہوئی تو کیا کسی نے سوچا ہے کہ آزاد کشمیر کی کیا حیثیت ہوگی اور گلگت  بلتستان کی کیا پوزیشن ہوگی۔ معاہدہ کراچی کی رو سے گلگت  بلتستان کا انتظامی کنٹرول عارضی طور پر حکومت پاکستان کو دی گئی ہے اگر یہ معاہدہ ختم ہوا تو گلگت  بلتستان کا انتظامی کنٹرول آزاد کشمیر حکومت کے ماتحت ہو جائے گی، آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان ایک انتظامی یونٹ میں آجائے گی۔ کیا آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان کو ملانے والا کوئی زمینی راستہ ہے،اس معاہدے کو ختم کرنے کی صورت میں دوسرا آپشن یہ ہوگا کہ گلگت  بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دے۔ اس کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں بچتا، جو آپشن گلگت  بلتستان کی عوام کے ذہنوں میں ڈلا گیا ہے کہ معاہدہ کراچی ختم ہوا تو گلگت  بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا یہ بات کسی بھی صورت ممکن نہیں  ہے کیونکہ گلگت  بلتستان کو تنازعہ کشمیر سے کسی بھی صورت الگ نہیں کی جا سکتی اور آزاد کشمیر کے بغیر پاکستان میں شامل بھی نہیں کر سکتی جس کی بات پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں میں بھی واضع طور پر موجود ہیں۔
                گلگت  بلتستان کے عوام کو اب بھی ہوش کے ناغن لینا ہوگا اور اپنی قومی حقوق کے لئے ایک ایجنڈے پر آنا ہوگا، معاہدہ کراچی کالعدم ہونے کی صورت میں ہمیں کس حیثیت میں اپنی تشخص و آزادی کو بحال کرنا ہے اس پر سنجیدگی سے غور و حوض کرنا ہوگا، قومی سوال کے حل کے لئے قومی جواب تیار کرنا ہوگا۔حکومت پاکستان  نے معاہدہ کراچی میں گلگت  بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ کیوں نہیں دیا اور اس وقت اس طرح کی سیٹ اپ دینے پر آمادہ کیوں نہیں؟ ان سولات کے جوابات انتہائی تلخ ہیں جنہیں لکھنے کے لئے اظہار رائے کی مکمل آزادی چائیے جو کہ کم سے کم ہمیں حاصل نہیں ہیں کیونکہ ہم سچ لکھتے ہیں۔سچ نہ عوام سننا چاہتی ہے اور نہ ہی نوجوانوں کو سچ میں دلچسپی ہے۔
…………………………………………………………………..