Sunday, May 24, 2026

گلگت بلتستان انتخابات 2026

گلگت بلتستان انتخابات پاکستان کے زیر اہتمام ریاست جموں وکشمیر کی اکائی گلگت بلتستان میں حکومت پاکستان لیگل فریم ورک آرڈر 2018ء کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی کے لئے 7 جون کو انتخابات کرانے جا رہی ہے۔ یہ انتخابات ایک کٹھ پتلی تماشہ ہے جس کے ذریعے حکومت پاکستان نے اپنے لئے گلگت بلتستان اسمبلی میں سہولت کاروں کا چناؤ کرنا ہوتا ہے تاکہ یہاں پر موجود غیر آئینی اور غیر جمہوری نو آبادیاتی نظام کو بر قرار رکھا جا سکے، گلگت بلتستان اسمبلی کے پاس کوئی قانون سازی کے اختیارات نہیں اور نہ ہی یہ آزاد کشمیر طرزکی ریاستی اسمبلی ہے، بظاہر اس اسمبلی میں وزیر اعلی اور سپیکر کے عہدے متعارف ہیں تاکہ اسے صوبائی طرز کی ڈھانچہ سمجھا جائے تا ہم یہ کوئی صوبائی اسمبلی نہیں کیونکہ نام سے ہی اسے گلگت بلتستان اسمبلی کہا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے لئے انتخابات ہر پانچ سال بعد ہوتا ہے، ان انتخابات کے ذریعے عوام نے اپنے لئے نمائندے منتخب کرنا ہوتا ہے یہ ایک بظاہر سی بات ہے در اصل ان انتخابات کے ذریعے ہر دفعہ اسلام آباد میں بر سر اقتدار سیاسی جماعت اپنے لئے ایک کٹھ پتلی کا چناؤ عمل میں لاتا ہے تاکہ اپنی اقتدار کو دوام بخش کر گلگت بلتستان کی قدرتی وسائل سے لظف اندوز ہو سکے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات ہمیشہ سے طے شدہ اور انتخابی دھاندلیوں کے ذریعے وجود میں لائی جاتی ہے، جس کے لئے انتخابات سے قبل ہی حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے، گلگت بلتستان کی قومی و مقامی جماعتوں کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ الیکش کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرد سیاسی جماعتوں کو ہی گلگت بلتستان کے انتخابات میں جانے کی اجازت ہے کیونکہ گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں اس لئے گلگت بلتستان کی کوئی بھی جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں قانونی طور پر رجسٹرڈ نہیں سکتی اس لئے گلگت بلتستان کی قومی جماعتوں کو الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پر جانا ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اگر گلگت بلتستان کی قوم پرست گلگت بلتستان کی تمام سیٹیں جیت بھی جائے تو انہیں حکومت بنانے کے لئے پاکستان کی کسی پارٹی میں شامل ہونا ہوگا، کیونکہ یہاں گلگت بلتستان کی قومی و مقامی لوگو ں کو حکومت بنانے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ گلگت بلتستان کی قومی جماعتوں کو انتخابات سے باہر رکھنے کے لئے یہاں کے تمام سرگرم اور انتخابات میں حصہ لینے والے قائدین کو انتخابات کا اعلان ہوتے ہیں گرفتار کر لئے گئے ہیں جن میں عوام ایکشن کمیٹی کے چیرمین احسان علی ایڈووکیٹ، بالاورستان نیشنل فرنٹ کے صدر نفیس ایڈووکیٹ، گلگت بلتستا ن یونائیٹڈ موومنٹ کے چیف شبیر حسین مایار، قراقرم نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں تعارف عباس ایڈووکیٹ، ابرار علی بگورو، بابر حسین اور جے کے ایل ایف کے رہنماء نصرت حسین شامل ہیں۔ یہ تمام رہنماء جو انتخابات میں شامل تھے وہ سب جیل میں ہیں، جبکہ بالاورستان نیشنل فرنٹ کے سپریم لیڈر نواز خان ناجی آزاد امید وار کے طور پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ترقی پسند پارٹی عوامی ورکرز پارٹی کے چار رہنما الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ہر سال انتخابی عمل اور ماحول کو حکومت پاکستان اپنے مقاصد کے مطابق ترتیب دیتے ہیں، انتہائی شرمناک بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لئے اسلام آباد کی سیاسی جماعتوں کے درمیان تقسیم کا طریقہ کار موجود ہیں، جو حکومت اسلام آباد میں برسر اقتدار ہوتی ہے وہ گلگت بلتستان میں بھی اپنی حکومت بنا لیتی ہے،جب اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائی گئی جب مسلم لیگ ن کی حکومت تھی یہان مسلم لیگ ن کی حکومت بنائی گئی جب اسلام آباد میں عمران خان کی حکومت تھی یہاں تحریک انصاف کی حکومت بنی، جب عمران خان کو ہٹایا گیا گلگت بلتستا ن سے بھی تحریک انصاف کی حکومت ختم کی گئی، اس وقت اسلام آباد میں اتحادی حکومت ہے اور گلگت بلتستان میں بھی اتحادی جماعتوں کی ھکومت ہوگی کیونکہ گلگت بلتستان میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کا اصول قائم ہے، گلگت بلتستان میں ایک طرف مقامی اور قومی جماعتوں کی انتخابات میں شمولیت اور انتخابی مہم پر پابندیان عائد ہے تو دوسروں طرف پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو یہاں آ کر سیاسی سرگرمیاں کرنے کی کھلی آزادی ہے ، پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں نواز شریف، مریم نواز اور امیر مقام یہاں انتخابی مہم چلا رہے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو، آصفہ زرداری کا شیدول طے ہے جبکہ قمر زمان قائرہ، نیر بخاری وغیرہ کئی مہینوں سے ڈیرے لگائے بیٹھے ہیں، اس سال پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان سے الیکشن میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے تاہم متبال کے طور پر استحکام پاکستان پارٹی کو لانچ کیا گیا ہے، مذہبی جماعتوں میں مجلس وحدت مسلمین، تحریک اسلامی اور جمییت علماء اسلام بھی انتخابات میں بھر پور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک کی سیاسی سرگرمیو ں کو دیکھ کر اور امیداروں کی فہرست پر نظر کیا جائے تو یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ گلگت بلتستان میں مخلوط حکومت بنے گی، پاکستان مسلم لیگ ن6، پاکستان پیپلز پارٹی 4، استحکام پاکستان پارٹی 4 پی ٹی آئی حامی اور آزاد 7، وحدت مسلمین، تحریک اسلامی،اور جمیت اسلام ایک ایک سیٹیں لینے سکتی ہیں۔ حکومت مسلم لیگ ن کی بننے کے امکانات زیادہ ہے.

No comments: