Saturday, March 20, 2021

“Provisional Province” it is a vague term for Gilgit Baltistan

 “Provisional Province” it is a vague term for Gilgit Baltistan

The resolution passed by Gilgit Baltistan Assembly to make Gilgit Baltistan “Provisional Province (PP)” for the region hold no ground at all. This was stated by Chairman Gilgit-Baltistan United Movement Manzoor Parwana while reacting over the proposal of Islamabad to deal the affairs of Gilgit-Baltistan as Provisional Province.
He said the “Provisional Province” itself is a vague term and it is a joke with the rights denial people of Gilgit Baltistan. Gilgit Baltistan is a disputed territory that is the reason the region have remained deprived of self-determination for the last over 74 years. Pakistan had taken over the administrative control of the region temporarily under the dubious “Karachi Pact 28th April 1949” and was supposed to hand over the local administration to the area people “Self Autonomy” in accordance with the resolution of the United Nations Commission on India and Pakistan (UNCIP).
The GBUM chief said the assembly of any country formulates laws to run the affairs of the state and make new provinces within the country in accordance with the wishes of the people. However, Gilgit Baltistan is the only area which neither has representation in the National Assembly of Pakistan, Senate nor has its own assembly to formulate the laws. So the proposed de-facto Provisional Province will be cause of insecurity and scarcity for the people of Gilgit Baltistan.
Mr. Parwana said the struggle of the nationalist parties in the region not based on any frustration, prejudice, hatred but was based on a geographical and ideological foundation. Therefore, the government of Pakistan should take positive steps to grant Self-Autonomy to Gilgit Baltistan” in accordance with the UNCIP resolutions and principles of democracy.
Issued by
Manzoor Hussain Parwana
Chairman
Gilgit Baltistan United Movement
Skardu Baltistan
19-3-2021
Mubashir Hassan, Manzoor Hussain and 29 others
4 Comments
6 Shares
Like
Comment
Share

How Gilgit Baltistan will be a Provisional Province Of Pakistan

 گلگت بلتستان، عبوری ریاست سے عبوری صوبہ کیسے بنے گی؟

منظور پروانہ چئیرمین گلگت بلتستان یونائیٹڈموؤمنٹ
گلگت بلتستان کی کہانی بھی کسی عجوبہ سے کم نہیں ہے۔ ڈوگرہ حکمرانوں کی غلامی میں تقریبا 109 سال گزرنے کے بعدگلگت بلتستان کو یہاں کی عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت آزادی دلائی تھی اور ڈوگرہ راج کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر کے گلگت بلتستان کو مقبوضہ خطہ سے مفتوحہ خطے میں تبدیل کردیاتھا۔یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ جب آزادی کے بعد کوئی ریاست وجود میں آتی ہے تو قومی حکومت تشکیل پاتی ہے اسی لئے ڈوگروں سے لی گئی آزادی کو قانونی شکل دینے کے لئے گلگت بلتستان کے قومی ہیروز نے اپنی خود مختار اور آزاد ریاست کی بنیاد رکھی گئی اور قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ راجہ گلگت شاہ رئیس خان کو نومولود عبوری جمہوریہ گلگت کا پہلا صدر منتخب کیا گیا اور کرنل حسن خان کو کمانڈ ان چیف بنایا گیا۔ عبوری ریاست کی تشکیل کے بعدگلگت بلتستان یکم نومبر 1947 ء کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر وجود میں آئی۔ یہ پاکستان اور انڈیا کے بعد وجود میں آنے والی تیسری خود مختار اور آزاد ریاست تھی۔
ہنزہ و نگرکے میروں کی خواہش کہے یا میجر براؤن کی سازش اس آزاد خطے کو پاکستان میں شامل کر نے کے لئے الحاق کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور 16 نومبر1947ء کو حکومت پاکستان نے اپنا نمائندہ ناءئب تحصیلدارسردار محمد عالم خان کو جانکاری کے لئے گلگت بھیجا۔سردار عالم خان نے گلگت پہنچتے ہی بھانپ لیا کہ یہاں کے عوام پر حکومت کرنا انتہائی آسان ہے، انھوں نے آتے ہی صدر مملکت کو فارغ کر دیا اور ملازمت پر لگا دیا اور خود پولیٹیکل ایجنٹ کی حیثیت سے اس آزاد خطے کا سربراہ بن گیا۔ان تمام کاروائیوں کو کسی بھی طرح سے قانونی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی یہاں کے عوام کی توجہ اس طرف گئی کہ مستقبل قریب میں ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جانے ہونے والا ہے، عوام کو یہی باور کروایا گیا کہ حکومت پاکستان نے آپکی الحاق کی پیشکش قبول کرتے ہوئے اس خطے کو جموریہ گلگت سے گلگت ایجنسی میں تبدیل کر دیا ہے اور اپنا نمائندہ پولیٹیکل ایجنٹ یہاں کی نظم و نسق سنبھالنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ کرنل حسن خان کی طرف سے اس مبہم اقدام پر مزاحمت کرنے کی کوشش بھی ہوئی جسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر دبایا گیا۔یہ تمام اقدامات میجر براؤن کی خفیہ پلان کا حصہ تھا جس کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے بعد از مرگ میجر براوٗن کو گلگت بلتستان کی آزادی کا ہیرو بنا کر اعزازات سے نوازا۔
یہ دنیا کا دوسرا مسلمہ اصول ہے کہ اگر کوئی ملک اپنی وجود کو برقرار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا تو کسی قریبی ملک میں شرائظ کے ساتھ ضم ہو جاتا ہے میجر براؤن کی گلگت بلتستان کوپاکستان کے ساتھ الحاق کروانے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ مفتوحہ خطے کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے اور پاکستان کی آئین میں شامل ہو۔16 نومبر 1947 کو آزاد جمہوریہ گلگت عارضی طور پر پاکستان کی انتظامی کنٹرول میں آچکی تھی۔گلگت بلتستان اب ایک مفتوحہ اور آزاد ریاست سے دوسری ریاست پاکستان میں ضم ہونے کی طرف جا رہا تھا اور یہاں کے عوام پاکستان کا آئینی اورپاکستان کی طرف سے الحاق کی قبولیت کا منتظر تھی کیونکہ عوام سمجھتی تھی کہ گلگت بلتستان کا مستقبل اب پاکستان کی انکار اور اقرار پر منحصر ہے، ہاں کی صورت میں گلگت بلتستان نے پاکستان ہونا تھا نہ کی صورت میں گلگت بلتستان کی عارضی ریاستی حکومت کو چلانے اور اپنی آزادی کو قائم رکھنے کے لئے حکمت عملی مرتب کرنا تھا کیونکہ یہاں کے عوام مہاراجہ ہری سنگھ کی راجدانی سے اپنے مادر وطن کو آزادی دلا چکی تھی اور واپسی کی کوئی صورت ممکن نہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔
حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کا انتظامی کنٹرول عارضی طور پر اپنے پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے ہاتھوں میں لیا تھا تا ہم اس خطے کو پاکستان میں شامل کرنے کے لئے کوئی قانون سازی نہیں کی تھی۔ اسی اثناء میں مہاراجہ کے الحاق نامہ کو لے کر بھارت سلامتی کونسل میں چلا گیا، سلامتی کونسل نے پاکستان کو ہری سنگھ کی ریاست میں مداخلت کی بابت ثمن کیا تو حکومت پاکستان بھی اقوام متحدہ میں پیش ہو گئی اور ان دونوں ممالک UNCIP کی تشکیل پر رضامندہوئے اور UNCIP کی پہلی قراردا د 13 اگست 1948 پر عمل در آمد کی حامی بھر لی گئی۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی منظوری کے بعد گلگت بلتستان کی پاکستان سے الحاق کی خواہش کا سنہرا اور بلا مشروط باب تنازعہ کشمیر کا حل نکلنے تک کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا کیونکہ گلگت بلتستان مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست جموں و کشمیرکا صوبہ تھا اور گھنسارا سنگھ گلگت بلتستان میں مہاراجہ کا گورنر تھا۔ اب جموں و کشمیر متنازعہ بن گیاتھا۔ جب تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت مہا راجہ کی الحاق کو قانونی حیثیت مل گئی تو ماتحت راجوؤں کی الحاق خود بخود کالعدم ہو گئی۔یہی وہ بنیادی نکتہ تھا جس کی بنیاد پر حکومت پاکستان، پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں اور پاکستان کی کشمیر پالیسی آج بھی گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا قانونی آئینی اور جغرافیائی حصہ تسلیم کرتی ہے اور گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرنے سے اجتناب کی گئی ہے۔
مہا راجہ کی الحاق ہندوستان سامنے آنے کے بعد حکومت پاکستان کے پاس دو آپشن تھے پہلا کہ سردار محمد عالم کو واپس بلا کر جمہوریہ گلگت کو تسلیم کرتے، دوسرا گلگت بلتستان کو بھی متنازعہ خطہ تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھتے۔ لہذا دوسرے آپشن کومناسب سمجھ کر اپنایا گیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت پاکستان کے پالیسی سازوں نے گلگت بلتستان کو اس لئے متنازعہ بنایا تاکہ کشمیر پر حق رائے دہی کی صورت میں زیادہ ووٹ لے سکے، اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ گلگت بلتستان کی موجودہ غیر آئینی حیثیت کا ذمہ دار حکومت پاکستان ہے نہ کوئی اور۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے فوری بعد حکومت پاکستان نے معاہدہ کراچی کو ڈیزائن کر کے گلگت بلتستان پر متنازعہ خطے کی حیثیت میں اپنا انتظامی گرفت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کوتر جیح دی۔ اس معاہدے کے سامنے آنے کے بعد گلگت بلتستان کی مفتوحہ حیثیت اب متنازعہ حیثیت میں تبدیل ہو گیا تھا۔گلگت بلتستان نہ یکم نومبر کی آزاد حیثیت میں رہی اور نہ ہی پاکستان سے الحاق کا خواب پورا ہوا بلکہ یکم نومبر 1947 سے پہلے کی حیثیت(ریاست جموں کشمیر کا ناردرن پروسینس)پر بحال گئی اور انتظامی طور پر حکومت پاکستان کی وزارت کشمیر کے ماتحت چلا گیا۔
گلگت بلتستان آج 73 سال گزرنے کے بعد بھی اپنی پہچان سے خالی ہے، بھارت کے زیر انتظام لداخ بھارت میں باقاعدہ ایک یونین ٹیریٹری کی حیثیت رکھتی ہے، لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وہاں کے عوام کو نمائندگی حاصل ہے،لیکن گلگت بلتستان دنیا کی کسی بھی ملک کا آئینی حصہ نہیں ہے اور نہ ہی گلگت بلتستان کی اپنی کوئی آئین ہے۔ گلگت بلتستان کی قسمت دیکھے کہ جوخطہ ایک مقبوضہ خطہ سے مفتوحہ خطہ بن چکا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے متنازعہ خطہ بن گیا۔ ہماری جیتی ہوئی بازی کوہم نے ہی ہرا دیا اور آج ہم شطرنج کے مہرے بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہماری حیثیت پر بات چیت کا تبادلہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان ہوتا ہے، انڈیا گلگت بلتستان کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے تو پاکستان گلگت بلتستان کو متنازعہ کشمیرکا حصہ کہتی ہے۔ یہاں یہ بات توجہ طلب ہے کہ اگر پاکستان اور انڈیا ریاست جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام استصواب رائے چاہتی ہے تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی ان شقوں پر عمل در آمد کیوں نہیں ہو رہا ہے جو استصواب رائے کو صاف و شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لئے ضروری ہے۔
حال ہی میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے ایک قرارداد منظورکی ہے جس میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان سے گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، قرار داد میں واضع طور پر لکھا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں تنازعہ کشمیر کو متاثر کئے بغیر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنایا جائے، گویا گلگت بلتستان کی اسمبلی کے معزز اراکین نے بھی گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر سے منسلک رکھنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ لیکن دوسری طرف گلگت بلتستان کی عوام نے اس قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عبوری صوبہ کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ عوام نے اس عبوری صوبہ قرارداد پر حکمران جماعت پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتیں پی پی پی،مسلم لیگ ن اور جمیت علما اسلام کے رہنماؤں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ گلگت بلتستان کی تمام قوم پرست اور ترقی پسند جماعتوں نے عبوری صوبے کی سخت مخالفت کر دی ہے، قراقرم نیشنل موؤمنٹ،جماعت اسلامی، تنظیم اہل سنت و جماعت، سول سوسائیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں آزاد کشمیر طرز پر مقامی و انتظامی و خوداختیاری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے 2 دسمبر 2020ء کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نیازی نے گلگت بلتستان اسمبلی سے اپنی خطاب میں گلگت بلتستان کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی بابت ایک اور نئی کمیٹی بنانے کا اعلان کر دیا تھا، اس سے قبل جو کمیٹیاں بنائی گئی تھیں جو اس نئی کمیٹی کے بنائے جانے کے بعد اپنی سفارشات کے ساتھ منظقی انجام کو پہنچ چکی ہیں۔ کمیٹی کے ذریعے گلگت بلتستان کی مستقبل کا فیصلہ کرنے کی سوچ سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عمران خان گلگت بلتستان کے بارے میں کس حد تک غیر سنجیدہ ہے۔ حالانکہ حکومت اس حقیقت سے آشنا ہے کہ گلگت بلتستان کی یکم نومبر 1947کی خود مختار اور خود اختیاراتی حکومت کی بحالی ناگزیر ہو چکی ہے جوکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے اور حکومت پابند بھی ہے۔ گلگت بلتستان میں آزاد و خود مختار ریاستی اسمبلی کے علاوہ کسی بھی قسم کی انتظامی سیٹ اپ،حکم نامہ یاکمیٹی کی سفارشات یا قرارداد گلگت بلتستان کی عوامی حقوق کا نعمل البدل نہیں ہو سکتی۔ عبوری صوبہ کا لالی پاپ تنازعہ کشمیر کی حیثیت کو بگاڑ کر رکھ دے گی ایسی صورت حال میں پاکستان کی منصوبہ سازوں کو چائیے کہ وہ گلگت بلتستان کی قومی تشخص اور تنازعہ کشمیر پر حکومتی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے مدبرانہ قدم اٹھائے تاکہ بعد میں کف افسوس ملنانہ پڑے۔اگرعمران خان حکومت نے مودی سرکار کے ساتھ اندرونی گٹھ جوڑ کے ذریعے تنازعہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ ادھر ہم ادھر تم کا فیصلہ طے پایا ہے تو مستقبل قریب میں آزاد کشمیر،ہزارہ اور پنڈی ڈویژنز میں ضم ہونے جبکہ گلگت بلتستان خیبر پختون خواہ کا کوہستان ڈویژن بننے جا رہی ہے۔لہذا عبوری صوبہ نا می درد سر پالنے کی کیا ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, July 13, 2020

Gilgit Baltistan..Misused of Law


گلگت  بلتستان میں انسداد دہشت گردی قانون کا بے جااستعمال
                  21جون  2018ء کو گلگت  بلتستان کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین باب کا اضافہ ہوا۔ اس دن حکومت پاکستان نے گلگت  بلتستان میں قانون انسداد دہشت گردی کی شق شیڈول فور کا نا جائز اور بے جا استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں امن پسندشہریوں سے آزادی سے زندگی گزارنے کا حق چھین لیا۔حکومت پاکستان نے انسداددہشت گردی کا قانون  پاکستان  میں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لینے کے لئے بنایا تھا تا کہ امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔ لیکن حکومت اس قانون کوغیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر متنازعہ گلگت  بلتستان میں حقوق کی بات کرنے والے سیاسی رہنماؤں اور سوشل میڈیا کارکنوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ گلگت  بلتستان میں شیڈول فور میں شامل افراد پر کئے گئے غیر جانبدار نہ تحقیقات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ گلگت  بلتستان میں اس قانون کا اطلاق نہ کالعدم مذہبی و سیاسی جماعتوں پر ہو رہا ہے ا اور نہ ہی  دہشت گردوں پر ہورہا ہے بلکہ شیڈول فورمیں ڈالے گئے افراد گلگت  بلتستان کے عوام کی بنیادی حقوق کے لئے موثر آواز اٹھا نے والے پرامن سیاسی رہنما ہیں۔ ابتدائی طور پر حکومت نے 183 افراد کو شیڈول فور میں ڈالا تھا،  ان میں سے اکثریت انفرادی اور اجتماعی طور پرگلگت  بلتستان کے حقوق کے لئے آواز اٹھا نے والے سیاسی و سماجی کارکن تھے۔ ان پر امن شہریوں کوکسی بھی مذہبی و دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہ ہونے کے باوجود بھی شیدول فور میں خانہ پوری کے لئے شامل کئے گئے تھے، تاکہ ریاستی ادروں کا خوف ان کے دلوں پر چھائے رہے اور ضلعی سطح پر بنائی گئی کمیٹی کے آٖفیسران اپنی کارکردگی دکھا کر ترقی و انعامات حاصل کر سکے۔ کچھ لوگوں کو ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پربھی شیڈول فور میں ڈالے گئے او کچھ لوگوں کو ذاتی و خاندانی دشمنی، سیاسی مخالفت، سرکاری اداروں کے لئے سہولت کاری نہ کرنے کے پیش نظر شیڈول فور میں شامل کئے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
                شیڈول فور کی لسٹ پر کی گئی تحقیقات کے بعد انتہائی ہو شرباء انکشابات بھی سامنے آئے ہیں۔ گلگت  بلتستان میں سولین کاشیڈول فور میں نام ڈالنے اور نام نکالنے کا  اختیارسول انتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔ محکمہ پولیس گلگت  بلتستان کے سابق سربراہ ثنا ء اللہ نے شیڈول فور کی لسٹوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ سال  بیان دیا تھا کہ شیڈول فور میں شامل تمام بے گناہ افراد کو نکال دیا جائے گا  کیونکہ ان افراد کے خلاف کسی بھی تھانے میں کسی بھی قسم کی معمولی شکایت تک نہیں تا ہم اعلیٰ قوتوں کی سخت مخالفت اور مداخلت کی وجہ سے انہیں فہرست میں خاطر خواہ کمی لانے میں کامیابی نہیں ملی۔ پچھلے دو سال سے شیڈول فور سے نام نکالنے کے لئے سرکاری خفیہ اداروں کی مختلف لوگوں کے ساتھ ڈیل بھی چلتی رہی ہے۔ کافی لوگوں کو خفیہ ڈیل کے بعد شیڈول فورسے نکال لئے گئے ہیں اور ان سے عہد لیا گیا کہ وہ گلگت  بلتستان کی قومی اشیوز پر کسی بھی قسم کی سیاست نہیں کریں گے۔ حکومتی اقدامات کے خلاف کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے اورگمنامی کی زندگی گزاریں گے۔ سرکاری سطح پر بھی اس بات کا اعتراف کیا  جا رہاہے کہ شیڈول فور کا گلگت  بلتستان میں استعمال غلط ہوا ہے اس لئے، شیدول فور سے اب تک تقریبا  200  سے زیادہ افراد کو بے گناہ قرار دے کر نکالے جا چکے ہیں جو کہ اس قانون کی بے جا استعمال کا  منہ بولتا ثبوت ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ماؤرائے قانون ایک حلف نامہ بنایا ہے جس پر دستخط کرنے والوں کو بھی شیڈول فور سے نکالا جاتا ہے۔ یہ حلف نامہ جنیوا کنونشن اور آ ئین پاکستان کے دفعات سے متصادم ہیں جس میں مبینہ طور پر لوگوں کو حق رائے دہی، حق تنظیم سازی، حق اظہار رائے، حق ملازمت اور حق آزادی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
                گلگت اور دیامر ڈویژنز سے کافی تعداد میں قومی مذہبی و سیاسی رہنماؤں، ماہرین تعلیم، سماجی کارکنوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹز کو شیڈول فور میں ڈالے گئے تھے ان میں سے بعض افراد پر سی پیک کے خلاف سازش کے الزمات کے تحت مقدمات بھی بنائے گئے تاہم اس وقت ان میں سے بیشتر کو قید و بند کی اذیت دینے کے بعد بے قصور قرار دے کر رہا کر دئیے ہیں اور ان کے نام شیڈول فور سے بھی خارج کئے گئے ہیں۔ اور اب بھی بہت سے سیاسی کارکنوں کو شیدول فور پر رکھا جا رہا ہے تاکہ انہیں معاشی طور پر کمزور کر کے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو دبایا جا سکے اور انہیں عوامی حقوق کی جد و جہد سے دور رکھا جا سکے۔ گلگت ڈویژن سے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ حسنین رمل، راجہ میر نواز میر، کرنل (ر) نادر حسن، ابرار بگورو،،یاور عباس، شیخ موسیٰ کریمی، شیخ شبیر حکیمی،دیدار علی، عنایت عبدالی، راجہ میر  نواز میر، یاور علی اور دیگر کئی سماجی و سیاسی کارکنوں کو عوامی حقوق کی ایک موثر آواز بننے کی جرم میں مسلسل شیڈول فور میں ر کھے جا رہے ہیں۔
                بلتستان ڈویژن سے  پانچ سرکردہ قومی رہنماؤں کو شیڈول فور میں ڈالے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی فرد کا کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ ان افراد کو شیڈول فور میں شامل کرنے کی بنیادی وجہ  بلتستان ڈویژن کی ضلعی شیڈول فورکمیٹی کے ممبران کی ذاتی خواہش بتائی جاتی ہے۔ بلتستان ڈویژن کو پر امن اور دہشت گردی سے پاک خطہ ہونے کی تاثر کو زائل کرنے کے لئے ضلعی کمیٹی نے ان افراد کو شیڈول فور میں ڈالنے کی سفارش کی تھی حالانکہ متعلقہ تھانوں اور سپیشل برانچ کی ڈیلی ڈائری میں بھی ان افراد کا کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایت یا مقدمہ نہ ہونے کی رپورٹ سامنے آئی تھیں۔
                بلتستان ڈویژن سے سید آغا علی رضوی،جنرل سکریٹری ایم ڈبلیو ایم، منظور پروانہ سابق صدر بلتستان سٹوڈینس فیڈریشن و چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ، شہزاد آغا ضلعی صدرپاکستان پیپلز پارٹی، شبیر مایار رہنماء  بلتستان یوتھ الائنس، شیخ  محمد علی کریمی رہنماء ایم ڈبلیو ایم شیڈول فور میں شامل ہیں۔ سید علی رضوی گلگت  بلتستان میں حکومت مخالف احتجاج کا سر غنہ اور ایک نڈر عوامی لیڈر ہے، گندم سبسڈی دھرنا اوراینٹی ٹیکس مارچ میں علی رضوی کی قائدانہ صلاحیت سے حکومت خوف زدہ ہیں اس لئے شیڈول فور پر رکھا ہوا ہے۔ شبیر مایار، شیخ کریمی اور غلام شہزاد آغا بھی مزاحمتی تحریکوں کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں جبکہ منظور پروانہ ایک حق پرست و قوم پرست رہنماء ہیں وہ سکردو حلقہ فور سے انتخابات میں بھی حصہ لیتے ہیں، منظور پروانہ،  بلتستان اسٹوڈینس فیڈریشن کا صدر رہ چکا ہے۔منظور پروانہ گلگت  بلتستان کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی قدآ ور شخصیت ہیں، منظور پروانہ کوعوامی حقوق کی جد وجہد کو عالمی سطح پر متعارف کرانے، گلگت  بلتستان میں کرپشن، اقربا پروری، انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے پرشیڈول فور میں ڈالا گیا ہے۔ وہ گزشتہ بیس سالوں سے گلگت  بلتستان کے عوامی حقوق کے لئے سرگرم ہیں۔ ان کے بینک اکا ؤنٹ منجمد کئے گئے ہیں، شناختی کاڑد بلاک اور پاسپورٹ ضبط کئے گئے ہیں اور ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، ان کو انتخابی سیاست سے باہر رکھنے کے لئے بھی شیڈول فور کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
                انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان گلگت  بلتستان کی آٹھ مذہبی جماعتوں کو دہشت گردی کے شبہ میں کالعدم قرار دے چکی ہیں، ان آٹھ مذہبی جماعتوں کے سر کردہ رہنماؤں، سہولت کاروں اور کارکنوں کو شیڈول فور میں نہیں ڈالا گیا ہے انہیں اپنی سرگرمیاں کرنے کی کھلی آزادی دی ہوئی ہیں،بلکہ ان کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کو گلگت  بلتستان اسمبلی میں اہم عہدوں پر فائز کئے گئے ہیں۔روز نامہ باد شمال میں ۱۱ مئی 2019  ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حکومت نے کالعدم جماعتوں کے ان رہنماؤں کو پارٹی تبدیل کرنے کی صورت میں اپنے عہدوں پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے یہ بات ثا بت ہو تی ہے کہ کوئی بھی کالعدم جماعت کا رہنماء یا رکن،مسلم لیگ یا پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر کے محفوظ راستہ حاصل کرسکتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گلگت  بلتستان میں کالعدم تنظیموں کی حکومتی سرپرستی جاری و ساری ہیں۔
                گلگت  بلتستان کے قوم پرست رہنماؤں کو بھی  اس طرح کے دباؤ کا سامناہے۔ضلع غذر سے بی این ایف اور بی این ایس او کے کافی کارکنوں کو پی پی پی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ میں شامل ہونے کے بعد شیڈول فور سے نکالے گئے ہیں۔ شیڈول فورکو پارٹی وفاداریاں تبدیل کروانے  کے لئے بھی موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ گلگت  بلتستان میں کالعدم اور دہشت گرد قرار دیئے گئے کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کے کارکنوں کو شیڈول فور میں نہیں ڈالے گئے ہیں۔ سانحہ کوہستان، سانحہ یادگار چوک گلگت اور سانحہ چیلاس میں ملوث مشکوک دہشت گرد بھی شیڈول فور سے آزاد ہیں، دیامر میں سرکاری سکولوں کو جلانے اور کارگاہ نالہ میں پولیس جوانوں کو شہید کرنے والے کمانڈرز بھی شیڈول فور میں شامل نہیں تھے۔ اس سے بڑی انکشاف یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد علی خراسانی جس کا تعلق گلگت  بلتستان سے بتایا جاتا ہے اس کا نام بھی شیڈول فور کی لسٹ میں کبھی شامل نہیں کیا گیاہے۔
انسداد دہشت گردی کا قانون آئینی و قانونی طور پر کسی بھی صورت ایک متنازعہ خطے میں نافذ نہیں کیا جا سکتا، اس قانون کے اطلاق کا مقصد صرف اور صرف نو آبادیاتی نظام حکومت کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کو کچل دینا ہے تاکہ حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو  دہشت گردی سے جوڑ کردبایا جا سکے، اور گلگت  بلتستان کے عوام کی بنیادی و انسانی حقوق کی آواز عالمگریت حاصل نہ کر سکے۔ کئی سال پہلے بھارت نے بھی جموں و کشمیر میں پوٹا نام سے شیڈول فور سے ملی جلی قانون کا نفاذ عمل میں لایا تھااوراب حکومت پاکستان گلگت  بلتستان میں شیڈول فور کا قانون لا کرعوام کی سروں کو فتح کرنے میں کوشاں ہے۔ متنازعہ خطے میں جہاں استصواب رائے کا ہونا باقی ہو، عوام کے سروں پر حکومت قائم کرنے کی بجائے دلوں میں جگہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی گئی تو تنازعہ گلگت  بلتستان کا سود مند تنائج سامنے آ سکتا ہے۔ سود مندنتائج  ایسی صورت میں ممکن ہے جب متنازعہ خطے میں انسانیت کش اور عوام دشمن کالے قوانین کی اندھا دھند استعمال سے گریز کرتے ہو ئے عوام کو آزادی سے جینے کا حق دیا جائے۔
( م ح    پ ..... چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ)





Saturday, May 9, 2020

Gilgit Baltistan : Land Reforms Acts sabotage the Disputed status of the Region

لینڈ ریفار مز ایکٹ اور گلگت بلتستان۔۔
اصل کہانی کیا ہے
انجینئر منظور پروانہ،
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر گلگت بلتستان کی عوام کی حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں،گلگت بلتستان کی عوام کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض میں موجودہ اسمبلی کو مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ کچھ رعصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے، لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کی عوام کو کیا نقصان ہوگا۔ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو قبل از آگاہی دے پر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں۔
حال ہی نے حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی، سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہے جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی ریاست ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے، اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں، اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے، دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے، تیسرا بیرون لین شاملات(غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے، چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑہے جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں اور کاغذات مال میں عملدرآمد ہے۔ ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ملکیتی شاملات ، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی،تمام بنجر اور داس حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہیں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقے غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گی۔ اگر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لائی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسے گی اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے
کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا ، با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔
مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔
1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔
2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائنگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمیں مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگی۔
5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔
7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔
8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔
9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی ارضی کو ہتھیا لی جائے گی۔
گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو ان چاروں مطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ یہ کہ" آئینی حقوق دو "نہیں بلکہ گلگت بلتستان کو" آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو"،
دوسرا مطالبہ یہ کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک" آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو "،
تیسرا مطالبہ یہ کہ جب تک گلگت بلتستان متنازعہ رہے گی، گلگت بلتستان کو" ٹیکس فری زون "قرار دو،
چوتھا مطالبہ کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں " سٹیٹ سبجیکٹ رولز "کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔
اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہو گی ا ور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔ جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون سٹیٹ سجیکٹ روزلز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, May 8, 2020

History of Gilgit Baltistan: Occupation to Disputed Status



گلگت  بلتستان، مفتوحہ سے متنازعہ
منظور حسین پروانہ چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ مؤمنٹ
گلگت  بلتستان کی کہانی بھی کسی عجوبہ سے کم نہیں ہے،ڈوگرہ سامراج کی غلامی میں تقریبا  109 سال گزرنے کے بعد اس خطے کو یہاں کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت آزادی دلائی اور ڈوگرہ راج کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر کے گلگت  بلتستان کو مقبوضہ خطہ سے مفتوحہ خطے میں تبدیل کردیا۔یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ جب کوئی خطہ یا علاقہ فتح کر لیا جاتا ہے تو اسے اپنی ریاست میں شامل کر لیا جاتا ہے اور جب کوئی ریاست وجود میں آتی ہے تو قومی حکومت بنائی جاتی ہے۔ ڈوگروں سے لی گئی فتح کو قانونی شکل دینے کے لئے اپنی خود مختار اور آزاد ریاست کی بنیاد رکھی گئی اور قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ راجہ گلگت شاہ رئیس خان کو نومولود جمہوریہ گلگت کا پہلا صدر منتخب کیا گیا اور کرنل حسن خان کو کمانڈ ان چیف بنایا گیا۔ عبوری ریاست کی تشکیل پایہ تکمیل کو پہنچا  اور یوں گلگت  بلتستان یکم نومبر 1947 ء کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر وجود میں آئی۔ یہ پاکستان اور انڈیا کے بعد وجود میں آنے والی تیسری خود مختار اور آزاد ریاست تھی۔
                یہاں کی قیادت کی خواہش کہے یا میجر براؤن کی سازش اس  آزاد خطے کو پاکستان میں شامل کر نے کے لئے الحاق کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور  16 نومبر1947ء کو حکومت پاکستان نے اپنا نمائندہ سردار محمد عالم خان کو جانکاری کے لئے گلگت بھیجا۔سردار عالم خان نے گلگت پہنچتے ہی بھانپ لیا کہ یہاں کے عوام پر حکومت کرنا انتہائی آسان ہے، انھوں نے آتے ہی صدر مملکت کو فارغ کر دیا اور حکومت پاکستان کا ملازم لگا دیا اور خود پولیٹیکل ایجنٹ کی حیثیت سے اس آزاد خطے کا سربراہ بن گیا۔ان تمام کاروائی کو کسی بھی طرح سے قانونی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی یہاں کے عوام کی توجہ اس طرف گئی کہ مستقبل قریب میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، عوام کو یہی بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے آپ کا الحاق قبول کرتے ہوئے اس خطے کو جموریہ گلگت سے گلگت ایجنسی میں تبدیل کر دیا ہے اور اپنا نمائندہ یہاں کی نظم و نسق سنبھالنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ کرنل حسن خان کی طرف سے اس اقدام پر مزاحمت کرنے کی کوشش بھی ہوئی جسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر دبایا گیا۔
یہ دنیا کا دوسرا مسلمہ اصول ہے کہ اگر کوئی ملک اپنی وجود کو برقرار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا تو کسی قریبی ملک میں ضم ہو جاتا ہے، پاکستان میں الحاق کی با قاعدہ کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ مفتوحہ خطے کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے اور پاکستان کی آئین میں شامل ہو۔16 نومبر کو آزاد جمہوریہ گلگت عارضی طور پر پاکستان کی انتظامی کنٹرول میں آچکی تھی۔گلگت  بلتستان اب ایک مفتوحہ اور آزاد ریاست سے دوسری ریاست پاکستان میں ضم ہونے کی طرف جا رہا تھا  اور یہاں کے عوام پاکستان کا آئینی اورپاکستان کی طرف سے الحاق کی قبولیت کا منتظر تھی کیونکہ عوام سمجھتی تھی کہ گلگت  بلتستان کا مستقبل اب پاکستان کی انکار اور اقرار پر منحصر ہے، ہاں کی صورت میں گلگت  بلتستان نے پاکستان ہونا تھا نہ کی صورت میں گلگت بلتستان کی عارضی ریاستی حکومت کو چلانے اور اپنی آزادی کو قائم رکھنے کے لئے حکمت عملی مرتب کرنا تھا کیونکہ یہاں کے عوام مہاراجہ ہری سنگھ کی راجدانی سے اپنے
 خطے کو آزادی دلا چکی تھی اور واپسی کی کوئی صورت ممکن نہیں تھا۔
حکومت پاکستان نے گلگت  بلتستان کا انتظامی کنٹرول عارضی طور پر اپنے پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے ہاتھوں میں لیا تھا تا ہم الحاقی خط کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی اثناء میں مہاراجہ کے الحاق نامہ کو لے کر بھارت سلامتی کونسل میں چلا گیا، سلامتی کونسل نے پاکستان کو ہری سنگھ کی ریاست میں مداخلت کی بابت ثمن کیا تو حکومت پاکستان بھی اقوام متحدہ میں پیش ہو گئی اور ان دونوں ممالک UNCIP کی تشکیل پر رضامندہوئے اور UNCIP کی پہلی قراردا د 13 اگست 1948 پر عمل در آمد کی حامی بھر لی گئی۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی منظوری کے بعد گلگت  بلتستان کی پاکستان سے الحاق  کی خواہش کا سنہرا اور  بلا مشروط باب تنازعہ کشمیر کا حل نکلنے تک کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا کیونکہ گلگت  بلتستان مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست جموں و کشمیر کی ایک اکائی تھی، کیونکہ پورا جموں و کشمیر متنازعہ بن گیاتھا۔ جب مہا راجہ کی الحاق کو قانونی حیثیت مل گئی تو ماتحت راجوؤں کی الحاق خود بخود کالعدم ہو گئی۔
                 حکومت پاکستان کے پاس دو آپشن تھے پہلا کہ سردار محمد عالم کو واپس بلا کر جمہوریہ گلگت کو تسلیم کرے، دوسرا گلگت  بلتستان کو بھی متنازعہ خطہ تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھے۔  لہذا دوسرے آپشن کو اپنایا گیا۔ حکومت پاکستان کے پالیسی سازوں کی سوچ تھی کہ اگر ہم گلگت  بلتستان کی یکم نومبر 1947ء کی حکومت کو قبول نہ کرے  تو گلگت  بلتستان متنازعہ ہی رہے گا اور یہاں کے عوام کی ووٹ بھی کشمیر پر استصواب رائے کی صورت میں ہماری کام آئے گی۔ اسی وجہ سے گلگت  بلتستان کی الحاق کی یک طرفہ کوشش مسترد ہوئی۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے فوری بعد حکومت پاکستان نے معاہدہ کراچی کو ڈیزائن کر کے گلگت  بلتستان پر متنازعہ خطے کی حیثیت میں اپنا انتظامی گرفت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کو فوقیت دی۔ اس معاہدے کے سامنے آنے کے بعد گلگت  بلتستان کی مفتوحہ حیثیت اب متنازعہ حیثیت میں تبدیل ہو گیا۔گلگت  بلتستان کی نہ یکم نومبر کی آزاد حیثیت  میں رہی اور نہ ہی پاکستان سے الحاق کا خواب پورا ہوا۔
                 گلگت  بلتستان آج 73 سال گزرنے کے بعد بھی اپنی پہچان سے خالی ہے، بھارت کے زیر اتظام لداخ جو کہ گلگت  بلتستان کا جز ہے، پھارت میں باقاعدہ ایک یونین ٹیریٹری کی حیثیت رکھتی ہے، لوک سبھا اور راج سبھا میں وہاں کے عوام کو نمائندگی حاصل ہے،لیکن گلگت  بلتستان دنیا کی کسی بھی ملک کا آئینی حصہ نہیں ہے اور نہ ہی گلگت  بلتستان کی اپنی کوئی آئین ہے۔ گلگت  بلتستان کی قسمت دیکھے کہ یہ خطہ ایک مقبوضہ خطہ سے مفتوحہ خطہ بن  چکا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے متنازعہ خطہ بن گیا۔ ہماری جیتی ہوئی بازی کوہم نے ہی ہرا دیا اور آج ہم شطرنج کے مہرے بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہماری حیثیت پر بات چیت کا تبادلہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان ہوتا ہے، انڈین گلگت  بلتستان کو اپنی حصہ کہتی ہے تو حکومت  پاکستان گلگت  بلتستان کو متنازعہ کہتی ہے  حال ہی میں سپریم کورٹ کا گلگت  بلتستان میں الیکشن بارے فیصلہ آنے کے بعد انڈیا نے اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت  بلتستان اس کا اٹوٹ انگ ہے، حکومت پاکستان نے بھارت کی احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی موقف کا اعادہ کیا ہے کہ پوری ریاست جموں و کشمیر بشمول گلگت  بلتستان  ایک متنازعہ خطہ ہے۔کس کا موقف کمزور ہے اور کس کا موقف جاندار ہے یہ گلگت  بلتستان کی عوام کا مسئلہ نہیں ہے، گلگت  بلتستان کی یکم نومبر 1947کی  خود مختار اور خود اختیاراتی حکومت کی بحالی ناگزیر ہو چکی ہے جوکہ اقوام متحدہ کہ قراردادوں سے ہم آہنگ بھی ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی انتظامی سیٹ اپ،حکم نامہ یا کورٹ کا فیصلہ گلگت  بلتستان کی عوامی حقوق کا نعمالبدل نہیں ہو سکتی۔ 


Gilgit Baltistan and Karachi Agreement


معاہدہ کراچی ختم ہوا تو گلگت  بلتستان کی پوزیشن کیا ہوگی؟
منظور پروانہ چئیرمین گلگت  بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ
معاہدہ کراچی کانام سنتے ہی گلگت  بلتستان اور آزاد کشمیر کے جوانوں کا خون جوش  مارنے لگتا ہے، گلگت  بلتستان کے عوام اس معاہدے کو لے کر کشمیر کے عوام سے نفرت کا ایک طوفان اپنی دل میں سمیٹے  ہوئے ہیں، اور کشمیریوں کو گلگت  بلتستان کی غلامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، ان کو خوش فہمی ہے کہ اگر معاہدہ کراچی نہ ہوئی ہوتی تو گلگت  بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ ہوتا  جبکہ اس معاہدے کو لے کر کشمیر کے عوام بھی اس وقت کی کشمیری قیادت کو وطن فروش اور غدار قرار دیتی ہے کیونکہ ان کو غلط فہمی ہے کہ معاہدہ کراچی کی غلطی نہ کرتے تو گلگت  بلتستان آزاد کشمیر حکومت میں شامل ہوتی۔
 ہم 73 سال پہلے کی قیادت کو قصور وار ٹھہرانے اور عوام کو بے شعور کہنے کی بجائے اس معاہدہ کو 28 اپریل2020 کی تاریخ میں دیکھتے ہیں، سردار ابراہیم اور سردارغلام عباس کی جگہ فاروق حیدر اور سردار عتیق ہیں، اور حکومت پاکستان کے نمائندے مشتاق گورمانی کی جگہ امین گنڈا پوری ہے، اقوام متحدہ سے استصواب رائے کی قرارداد آ چکی ہے، اور حکومت پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ووٹ لے کر  پورے کا پوراجموں و کشمیر حاصل کر سکے۔ دوسری طرف صدر گلگت بلتستان شاہ رئیس خان کی جگہ قاری حفیظ کو رکھ لیتے ہیں۔امین گنڈا پوری معاہدہ کراچی کو من عن دوبارہ کمپیوٹڑ سے لکھ کر فارق حیدر اور سردار عتیق اورحفیظ الرحمن کو اس معاہدے پر پاکستان کی ؑعظیم تر قومی مفاد اور قومی سلامتی کے پیش نظر اس پردستخط کرنے کو کہتا ہے تو ان تینوں کا کیا رد عمل ہوگا۔اس میں کوئی دو رائے کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ موجودہ معروضی حالات کے تناظر میں یہ تینو ں سیاسی و عوامی منتخب قیادت ایک لمحہ ضائع کئے بغیر معاہدہ کراچی پر دستخط کریں گے۔ ان تینوں کا دستخط لئے بغیر بھی صدر پاکستان عارف علوی معاہدہ کراچی کو صدارتی آرڈیننس  2020 کی شکل میں جاری کرے تو بھی نہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت میں اتنی جرات ہے  کہ اسے ماننے سے انکار کرے اور نہ ہی یہاں کے عوام میں اتنی ہمت ہے کہ اسے مسترد کرے۔73 سال گزرنے کے بعد بھی ہماری قیادت اور عوام معاہدہ کراچی کو مسترد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور ہم مردے اکھاڑنے والی بیانات دے کر بڑے پھندے خان بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک بار پھر معاہدہ کراچی پر دستخط کرنے والوں کو گالیاں دینے سے پہلے اپنی گریباں میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہم
آج معاہدہ کراچی کو ختم کرنے کی پوزیشن میں کیوں نہیں ہیں؟  ہمارے اوپر تو معاہدہ کراچی سے بھی بدتر قسم کے آرڈر اور کالے قانون نافذ ہو چکی ہیں اور مسلسل نافذہو رہی ہے ہمارے اندر ان آرڈرز کو مسترد کرنے کی جرات کیوں نہیں؟ ہمارے پاس اس کالے قوانین کو نا منظور کہنے کی ہمت کیوں نہیں؟
                معاہدہ کراچی میں آزاد کشمیر کو کسی حد تک با اختیار رکھا گیا ہے، جو کہ آزاد کشمیر کی قیادت کی دانشمندی ہے، گلگت  بلتستان کو اس معاہدے میں شامل ہی نہیں رکھا گیا تھا کیونکہ حکومت پاکستان اس وقت گلگت  بلتستان کی قیادت کو اس اہل ہی نہیں سمجھتی تھی کہ ان سے اس معاہدے کی بابت رائے  لی جائے اور دوسری اہم بات یہ تھی کہ گلگت  بلتستان کی قیادت الحاق پاکستان کے نام پر خطے کی قیادت سردار محمد عالم کو تفویض کر کے فارغ ہو چکی تھی، پاکستان کی قیادت کو اپنی قیادت مان چکی تھی، معاہدہ کراچی میں کشمیری  قیادت نے گلگت  بلتستان کی نمائندگی نہیں کی ہے بلکہ حکومت پاکستان نے گلگت  بلتستان کی نمائندگی کی ہے، اس معاہدے میں صرف ایک پوائنٹ کے ذریعے حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کی قیادت کو بتایا کہ پا کستان پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت گلگت اور لداخ کے انتظامات کو چلائے گی، اس پر کشمیری قیادت نے مزاحمت اس لئے نہیں کی ہوگی کیونکہ آزاد کشمیر سے گلگت  بلتستان کی انتظامی معاملات کو سنبھالنا ممکن نہیں تھا، دوسری  وجہ حکومت پاکستان نے اس بات کی یقین دہائی کرائی تھی کہ گلگت  بلتستان کے انتظامی معاملات وزارت امور کشمیر کے ماتحت ہونگے، جس سے انتظامی طور پر گلگت  بلتستان آزاد کشمیر سے منسلک ہی تصور ہوگا۔
یہ معاہدہ گلگت  بلتستان کی اس وقت کی قیادت کے آنکھوں کے سامنے ہوا تھا جو یہ راگ الاپتے اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ ہم نے ڈنڈوں سے آزادی لی اور خط اور ٹیلی گرام دے کر قائد اعظم کو گلگت  بلتستان تحفے میں دیا اور بلا مشروط الحاق کیا،  گلگت  بلتستان کی الحاقی قیادت نے معاہدہ کراچی پر احتجاج کیوں نہیں کیا۔ یہ معاہدہ الحاق پاکستان کی نفی کرتی تھی، یہ معلوم ہوتے ہوئے اس پر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کی گئی۔ حکومت پاکستان کو خط کیوں نہیں بھیجا کہ گلگت  بلتستان کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے، حکومت پاکستان سے یہ پوچھنے کی ہمت کیوں نہ ہوئی کہ ہماری الحاق کا کیا بنا اور گلگت  بلتستان کو آئینی حقو ق دینے کے بجائے تنازعہ کشمیر سے کیوں جوڑا گیا ۔ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جنہیں تسلیم کرنے اور اپنی قومی قیادت کی کمزوریوں اور غلطیوں یا اپنی مجبوریوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کے بجائے ہم معاہدہ کراچی کو کشمیریوں کی سازش قرار دے کر اس معاہدے کے اصل کرداروں کو محفوظ راستہ دے رہے ہیں اور اعزازات لینے، مراعات لینے کے لئے لائن میں کھڑے ہیں،اپنی حب الوطنی کی زبانی دعوے کا بھرم رکھنے کے لئے ہم آج بھی حقائق سے چشم پوشی کر رہے ہیں اسی وجہ سے غلامی اور زہنی پسماندگی نے گلگت  بلتستان میں ڈھیرے جما لئے ہیں اور ہم آج بھی کٹھ پتلیوں کی طرح غیروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں نہ صرف کھیل رہے ہیں بلکہ ناچ بھی رہے ہیں۔
                چلئے فرض کر لیتے ہیں کہ اس وقت  ہماری قوم میں بہت شعور آچکی ہے، ہماری سیاسی و مذہبی قیادت بلوغت کو پہنچی ہے، ہم میں اتحاد و اتفاق موجود ہیں، ہم اپنے حقوق چھین کر لینے کے لئے آمادہ ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان معاہدہ کراچی کو ختم کرنے کے لئے ایک صفحے پر ہیں اور حکومت پاکستان بھی ہماری خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اس معاہدے کو ختم کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر حکومت پاکستان اس معاہدے سے دستبردار ہوئی تو کیا کسی نے سوچا ہے کہ آزاد کشمیر کی کیا حیثیت ہوگی اور گلگت  بلتستان کی کیا پوزیشن ہوگی۔ معاہدہ کراچی کی رو سے گلگت  بلتستان کا انتظامی کنٹرول عارضی طور پر حکومت پاکستان کو دی گئی ہے اگر یہ معاہدہ ختم ہوا تو گلگت  بلتستان کا انتظامی کنٹرول آزاد کشمیر حکومت کے ماتحت ہو جائے گی، آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان ایک انتظامی یونٹ میں آجائے گی۔ کیا آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان کو ملانے والا کوئی زمینی راستہ ہے،اس معاہدے کو ختم کرنے کی صورت میں دوسرا آپشن یہ ہوگا کہ گلگت  بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دے۔ اس کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں بچتا، جو آپشن گلگت  بلتستان کی عوام کے ذہنوں میں ڈلا گیا ہے کہ معاہدہ کراچی ختم ہوا تو گلگت  بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا یہ بات کسی بھی صورت ممکن نہیں  ہے کیونکہ گلگت  بلتستان کو تنازعہ کشمیر سے کسی بھی صورت الگ نہیں کی جا سکتی اور آزاد کشمیر کے بغیر پاکستان میں شامل بھی نہیں کر سکتی جس کی بات پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں میں بھی واضع طور پر موجود ہیں۔
                گلگت  بلتستان کے عوام کو اب بھی ہوش کے ناغن لینا ہوگا اور اپنی قومی حقوق کے لئے ایک ایجنڈے پر آنا ہوگا، معاہدہ کراچی کالعدم ہونے کی صورت میں ہمیں کس حیثیت میں اپنی تشخص و آزادی کو بحال کرنا ہے اس پر سنجیدگی سے غور و حوض کرنا ہوگا، قومی سوال کے حل کے لئے قومی جواب تیار کرنا ہوگا۔حکومت پاکستان  نے معاہدہ کراچی میں گلگت  بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ کیوں نہیں دیا اور اس وقت اس طرح کی سیٹ اپ دینے پر آمادہ کیوں نہیں؟ ان سولات کے جوابات انتہائی تلخ ہیں جنہیں لکھنے کے لئے اظہار رائے کی مکمل آزادی چائیے جو کہ کم سے کم ہمیں حاصل نہیں ہیں کیونکہ ہم سچ لکھتے ہیں۔سچ نہ عوام سننا چاہتی ہے اور نہ ہی نوجوانوں کو سچ میں دلچسپی ہے۔
…………………………………………………………………..

Tuesday, October 8, 2019

Gilgit Baltistan leader Open letter to PM Pakistan Imran Khan

محترم جناب عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان
اسلام علیکم!
امید ہے کہ آپ متنازعہ گلگت بلتستان کا دورہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہونگے، اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد متنازعہ گلگت بلتستان کے عوام نے آپ سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہے کیونکہ آپ نے متنازعہ گلگت بلتستان کے عوام کو حق خود ارادیت دینے اور اقوام متحدہ کی امن مشن کو خطے تک رسائی دینے کی حامی بھر لی ہے اس لئے4 اکتوبر کو بلتستان کی دار الحکومت سکردو میں آپکا شاندار استقبال ہوگا ۔ آپ پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کا بھی وزیر اعظم ہے لہذا آپ اس حقیقت سے با خبر ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام بنیادی و انسانی حقوق سے یکسر محروم ہیں، آپ خوش قسمت ہیں کہ سکردوتک سیاسی جماعت کو پھیلا سکتے ہیں، جلسہ جلوس کر سکتے ہیں اور تقریر بھی کر سکتے ہیں، لیکن ستم ظریفی تو دیکھئے کہ گلگت بلتستان کی قومی و سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنی سر زمین پر تنظیم سازی نہیں کر سکتے، جلسہ جلوس نہیں کر سکتے، عوام کی خدمت نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں کے قومی رہنماؤں کو شیڈول فور میں ڈال کر پابند رکھا گیا ہے۔ یہاں کے قومی رہنماؤں کی حالت بھی بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سے کم نہیں ہیں۔جموں و کشمیر میں مودی سرکار نے سیاسی رہنماؤں کو قید میں رکھا ہوا ہے اور گلگت بلتستان میں بھی سیاسی رہنماء باباجان اور افتخار کربلائی اپنے ساتھیوں کے ساتھ عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی نے سٹیٹ سبجیکٹ کو ختم کیا ہے گلگت بلتستان میں بھی سٹیٹ سبیکٹ رولز کو ختم کیا ہوا ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام اظہار رائے کی آزادی سے محروم ہیں اور گلگت بلتستان میں بھی اظہار رائے پر قدغن لگا ہوا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں سپیشل سٹیٹس ختم کیا گیا ہے لیکن گلگت بلتستان کو سپیشل سٹیٹس سے محروم رکھا گیا ہے۔
جناب وزیر اعظم صاحب آپ تو خوش قسمت نکلے کہ آپ ہماری ووٹ ہماری رائے اور ہمارے خواہش کے بغیر ہمارا وزیر اعظم بن چکا ہے اور ہم اتنے مجبور و محکوم ہیں کہ ہم آپ کو وزیر اعظم بنانے کے لئے ووٹ تک نہیں دے سکتے، آپ ہمارے لئے قانون بناتے ہیں، آپ ہمارے لئے حکم نامہ جاری کرتے ہیں اور آپ ہماری مقدر کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور ہم اتنے بے بس و لاچار ہیں کہ ہم اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی پر آہ بھی کرے تو غداری کے مقدمات میں گرفتار کئے جاتے ہیں، ہمیں تھانوں، عدالتوں اور قید خانوں میں گھسیٹا جاتا ہے اور ہمیں ذہنی و جسمانی طور پر ٹارچر کئے جاتے ہیں۔ہم پر سفری پابندیاں لگائی جاتی ہیں، ہمارے شناختی کارڈ بلاک اور اکاؤنٹ منجمد کئے جاتے ہیں۔
جناب وزیر اعظم صاحب72 سال بڑا عرصہ ہوتا ہے، ہماری تین نسلیں گزر چکی ہیں، ہمیں نہ پاکستان میں شامل کیا گیا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق حکمرانی دی گئی، ہم سے جانوں کی قربانی تو لی گئی لیکن ہماری قربانیوں کا صلہ محرومی محکومی اور جبر و ستم کی شکل میں لوٹایا جاتا رہاہے۔ ہمارے جوان پاکستان کے بارڈرز پر اس لئے لڑتے رہے کہ شاید ہماری قربانی ہمیں پاکستانی بنانے میں مدددے گی لیکن 72 سال گزرنے کے بعد بھی ہم تنازعہ کشمیر کی سولی پر لٹکتے رہے، اور اب نو جوان نسل جان چکی ہے کہ گلگت بلتستان ہی تنازعہ کشمیر کی سانسیں ہیں اور گلگت بلتستان ہی تنازعہ کشمیر کی روح ہے، گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کا چوتھا فریق ہے، تنازعہ کشمیر میں گلگت بلتستان ہی عالمی توجہ کا مرکز و محور ہے، اگر تنازعہ کشمیر پر امن ہونا ہے تو گلگت بلتستان پر ہونا ہے اور اگر تنازعہ کشمیر پر جنگ ہونی ہے تو بھی گلگت بلتستان کے حصول کے لئے ہونی ہے۔اگر تنازعہ کشمیر حل ہونا ہے تو گلگت بلتستان کی وجہ سے ہی حل ہونا ہے۔ اگر کشمیر خود مختار ہونا ہے تو بنیاد گلگت بلتستان ہے اور اگر تنازعہ کشمیر حل نہیں ہونا ہے تواس کی وجہ بھی گلگت بلتستان ہی ہے۔
جناب وزیر اعظم صاحب گلگت بلتستان کے عوا م مسئلہ کشمیر اپنی منظقی انجام تک پہنچنے تک اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام حق حکمرانی چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام اپنی سر زمیں پر اپنی رائے و خواہش کا نظام و انتظام چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام اپنی خطے پر اپنی حق رائے دہی سے قانون سازی چاہتی ہے، گلگت بلتستان کی عوام اپنی زمین پر اپنی حق ملکیت چاہتی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنی تاریخی و ثقافتی تشخص چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام ہمسایہ ممالک سے آزادانہ نقل و حمل اور تجارت چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام معاشی و اقتصادی طورپر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان پر بوجھ بننا نہیں چاہتی۔گلگت بلتستان کے عوام دنیا میں سر اٹھا کر چلنا چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے عوام وہ تمام انسانی و بنیادی حقو ق چاہتی ہے جو انہیں اسلام نے دی ہوئی ہیں اور اقوام متحدہ کی چارٹرمیں تسلیم شدہ ہیں۔
جناب وزیر اعظم صاحب مجھے امید ہے کہ آپ اپنے دورے کے اس اہم اور تاریخی موقع پر اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 ء کی قرار داد کی روشنی میں گلگت بلتستان میں خود مختار اور با اختیار " لوکل اتھارٹی حکومت " کے قیام کا اعلان فرمائیں گے اور گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی خلاف ورزی کو روکنے کا اعلان کر کے مودی سرکار کی منہ پر زور دار طمانچہ ماریں گے اور اقوم عالم کو مثبت پیغام دیں گے کہ عمران خان صرف تقریر نہیں کرتا تقریر کو عملی جامہ بھی پہناتا ہے۔
آپ کا خیر اندیش
انجینئر منظور پروانہ
چئیرمین گلگت بلتستان یونائیٹڈ موء منٹ
بمقام شیڈول فور،سکردو بلتستان
مورخہ 3 اکتوبر 2019..................