Friday, August 14, 2015

Kargil refugees condemned the case against Manzoor Parwana


Gilgit Baltistan: Charge sheet framed against Nationalist leader Manzoor Parwana


Nationalist leader charged in sedition case in Gilgit Baltistan

موؤمنٹ کے چئیرمین منظور پروانہ پر فرد جرم عائد کر دی

PAREANAپریس ریلیز( گلگت)گلگت کے مقامی عدالت نے قوم پرست رہنما اور گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے چئیرمین منظور پروانہ پر فرد جرم عائد کر دیا ہے، منظور پروانہ کے خلاف موجودہ نظام کو ظالمانہ نظام قرار دینے اور سکردو کرگل روڈ کھول کر مہاجرین اور منقسم کاخاندانوں کو ملانے کا مطالبہ کرنے پر تعزیرات پاکستان کے دفعات 153a,124 a, 123a کے تحت پانچ سال پہلے مقدمہ درج کیاتھا اور انہیں گرفتار کر کے گلگت سینٹرل جیل منتقل کردیا تھا۔parwana
قوم پرست رہنما ء منظور پروانہ10 اگست 2015ء کو اپنے وکیل معروف قانون دان احسان علی ایڈووکیٹ اور جہانگیر شاہ کے ساتھ گلگت کی مقامی عدالت کے سامنے پیش ہوئے ، جہاں منظورپروانہ پر باقاعدہ طور پر ایف آئی آر نمبر211/11کی روشنی میں فرد جرم عائد کر دیا گیا۔ فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ منظور پروانہ نے حکومت پاکستان کو گلگت بلتستان کے انتظامی معاملات یہاں کے عوام کے سپرد کر کے چلے جانے کو کہا ہے اور کرگل سکردو روڈ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کرگل و لداخ کے مہاجرین اور منقسم خاندانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
منظور پروانہ نے اپنے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدالت سے انصاف کی توقع کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں حکومت پاکستان نے اس بات کو قبول کیا ہوا ہے کہ وہ انتظامی معاملات گلگت بلتستان کے عوام کے سپرد کرکے گلگت بلتستان سے چلے جائیں گے ۔ میرے مطالبات گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوامی کی آواز ہے ، کرگل سکردو روڈ کھولنے کا مطالبہ اور موجودہ کرپٹ ، ظالمانہ اور غلامانہ نظام کے خلاف اپنی جد و جہد کو جاری و ساری رکھا جائے گا۔ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں لہذا پاکستان سے غداری اور وفاداری کا سوال قبل از وقت ہے۔ غداری کا مقدمہ بنا کر حراساں کرنا طاقت کے زور پر کسی کو وفادار بنانے کے مترادف ہے ، ڈنڈے اور تشدد سے کسی کو وفادار نہیں بنایا جا سکتا ،میرے خلاف مقدمہ سیاسی نوعیت کا ہے ، ایسے جھوٹے اور من گھڑٹ مقدمات سے ڈرنے والے نہیں ، حکومت مجھے حراساں کرنے، قتل کی دھمکیاں دینے اور جعلی مقدمات میں الجھائے رکھنے کی بجائے گلگت بلتستان میں قائم نو آبادیاتی نظام کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کریں۔ اگر کرگل سکردو روڈ کھولنے کا مطالبہ غداری ہے تو گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین کو بھی عدالت کے کہٹرے میں لایا جائے کیونکہ گلگت بلتستان اسمبلی نے بھی سکردو کرگل روڈ کھولنے کی بابت قرارداد پاس کی ہے۔

Wednesday, August 5, 2015

GILGIT BALTISTAN MUST INVOLVED IN CHINA PAKISTAN ECONOMIC CORRIDOR PROJECT AS THIRD PARTY SAYS MANZOOR PARWANA

GILGIT BALTISTAN MUST INVOLVED IN CHINA PAKISTAN ECONOMIC CORRIDOR PROJECT AS THIRD PARTY SAYS MANZOOR PARWANA

Khunjerav pass, Pak China border
Gilgit Baltistan must involved in China Pakistan Economic Corridor project as third party says Manzoor Parwana
WEB DESK |  SOST TODAY

SKARDU (PRESS RELEASE) -Gilgit Baltistan should be involved in China Pakistan Economic Corridor project directly as third party, the people of Gilgit Baltistan must kept informed about the purpose, terms and conditions of the project. Gilgit Baltistanis a disputed region and the case is in United Nations since six decades with the Kashmir issue. The neighboring countries can’t use a disputed territory for socio and commercial interest; this is violation for international law. Before the deceleration of the political status Gilgit Baltistan how other countries do such activities here. The people of Gilgit Baltistan are being exploited socially and geographically.
These thoughts were expressed by the chairman Gilgit Baltistan United Movement, Manzoor Parwana in press release issued on Aug 01.
He said the economic corridor project is being built from Gilgit Baltistan, instead of that the people are not taken in confidence nor involved in the project. The land of Gilgit Baltistan is used for China Pakistan Economic Corridor project. Whereas the people of GB are mislay from the benefits of CPEC. Pakistan, China and Gilgit Baltistan should be given equal representative in the project.
Manzoor Parwana anticipated to include a dry port in Chilas and Skardu in the project and to grant 40 percent of the revenue directly to Gilgit Baltistan Government. Ashkoman to Tajikistan and Kargil to Skardu roads must open immediately. He further demanded to give Gilgit Baltistan tax free zone status, open Gilgit air port for international flights and to take steps to promote tourism in the region.

Sunday, August 2, 2015

Gilgit Baltistan reservations on China Pakistan Economic Corridor

China Pakistan Economic Corridor " the Dreat Game " ....
China and Pakistan should take Gilgit Baltistan on board as a 3rd Party . Manzoor Parwana demanded

Wednesday, July 29, 2015

UN should be convince International Donors to help Flood Affected Population in Gilgit Baltistan


imageاقوام متحدہ بین الاقوامی امدادی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر گلگت بلتستان میں فلڈ ریلیف کے لئے آمادہ کریں.منظور پروانہ

گلگت بلتستان کے عوام قدرتی آفات کے سامنے بے بس اور حکومتی ادارے بے حس ہو چکے ہیں ۔ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی ، غیت معیاری فن تعمیر اور عدم دلچسپی کے باعث معمولی قدرتی آفات اور بارشوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام کی زندگی اجیرن بن گئی ہے ، گلگت بلتستان کا دنیا سے رابطہ منقطع ہو چکی ہے ، خطے میں کھانے ہینے کی اشیاء کی دستیابی میں کمی آئی ہے ، بجلی غائب ہو چکی ہے، پیٹرول اور ڈیزل کا بحران پیدا ہو گیا ہے ، رابطہ پلوں کے منہدم ہونے کی وجہ سے درجنوں بالائی علاقوں کا نشیبی علاقوں سے آمد و رفت ختم ہو چکی ہیں ۔ لہذا بین الاقامی امدادی فلاحی ادارے گلگت بلتستان کے سیلاب زدہ عوام کی آبادکاری اور امداد کے لئے آگے آئیں اور براہ راست امدادی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کے دکھوں کا مداوا کریں ، ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان کے قوم پرست رہنماء منظور پروانہ نے سیلاب زدہ گان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کیا ،
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی سول انتظامیہ کے آفیسران فوٹو سیشن میں مصروف ہیں جبکہ وفاقی حکومت کے سربراہ میاں نواز شریف فضائی دورے کے نام پر تفریح میں لگا ہوا ہے ، اخباری بیانات اور فضائی نطاروں سے سیلاب زدہ گان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے ، سیلاب زدہ گان امداد کے منتظر ہیں جبکہ انتظامیہ زبانی تقاریرکے ذریعے عوام کو طفل تسلیاں دے رہی ہیں ، محکمہ مال کے چھوٹے ملازمین جعلی متاثرین کی فہرستیں مرتب کر کے مال بنانے میں لگا ہوا ہے ، حکومت سیلاب زدہ گان کی جذبات سے کھیلنے کاسلسلہ فوری طور پر بند کرتے ہوئے تمام ضلعوں کے لئے ہنگامی فنڈز کا اجراء کریں اور ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کی آمد و رفت اور خوراک کے مسائل کو حل کرے۔
منظور پروانہ نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے ، اس وجہ سے فریقین کی عدم دلچسپی کا شکار ہیں جو کہ عوامی مسائل اور سیلاب زدگان کی امدادی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے ، لہذا اقوام متحدہ بین الاقوامی امدادی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر گلگت بلتستان میں فلڈ ریلیف کے لئے آمادہ کریں اور عالمی فلاحی ادارے براہ راست گلگت بلتستان میں امدادی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہوئے متاثرین سیلاب کو راحت کا سامان پہنچائے ۔ گلگت بلتستان کے ہمسایہ ممالک سیلاب زدگان کی آباد کاری کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔