Friday, May 1, 2026
Gilgit Baltistan: Misuse Anti-Terrorism Law
Gilgit Baltistan: Misuse Anti-Terrorism Law
Gilgit-Baltistan political and social leader Shabir Hussain Mayar was arrested on the night of 18 April 2026 from a local hotel in Gilgit city where he had come for treatment from Skardu. In view of the apprehension of attending the meeting, Shabir Mayar has been produced before the Anti-Terrorism Court and handed over to the Joint Investigation Team on physical remand twice, he will be on physical remand until May 12, 2026.
The arrest of Shabir Mayar and the false anti-terrorism case foisted on him and his repeated physical remand is enough to understand the human rights situation in Gilgit-Baltistan, the arrest of Shabir Mayar and the case against him is in contradiction with the basic human rights guaranteed in the Constitution of Pakistan itself, and the filing of a case of terrorism without any crime against a peaceful and ailing entrepreneur is a strong evidence of the misuse of this law.
Shabir Mayar was kept under house arrest for two years for fighting for his civil rights. A few days ago, he came to Gilgit city for his check-up as he was suffering from a serious heart disease. He was arrested there and is not allowed to meet his lawyers in the police station.
Shabir Mayar is 44 years old, he belongs to the Kharmang Valley of Baltistan, he is the chief organizer of the Gilgit-Baltistan United Moment, he has been arrested a few weeks before the general elections for the assembly in Gilgit-Baltistan and the office of his political party Gilgit-Baltistan United Movement has been sealed, as the Gilgit-Baltistan United Movement was going to represent the people by participating in the elections. After the arrest of the chief organizer and the closure of the office, the involvement of the national party Gilgit-Baltistan United Movement in the elections is uncertain.
The Secretary General of Gilgit-Baltistan United Movement has called upon the Government of Pakistan to stop the alleged human rights violations in Gilgit-Baltistan and immediately release all political leaders of Gilgit-Baltistan including Shabir Mayar so that they can exercise their franchise by joining the general elections.
Secretary General
Gilgit Baltistan United Movement
Skardu Baltistan
May 2, 2026
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

1 comment:
گلگت
گلگت بلتستان کے سیاسی و سماجی رہنما ء شبیر حسین مایا ر کو 18 اپریل 2026 کے رات کے وقت گلگت شہر کے مقامی ہوٹل سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ سکردو سے علاج کی غرض سے آئے ہوئے تھے، شبیر مایار کے خلاف بعد میں ایک مقدمہ درج کیا گیا اس میں شبیر مایار پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ گلگت شہر میں ایت اللہ خامنہ ای کی برسی میں شامل ہو کر تقریر کرنے کے لئے منصوبہ بندی کر رہا تھا جس کی وجہ سے قبل از وقت اسے گرفتار کیا گیا تاکہ وہ کوئی جلسہ میں شامل نہ ہو سکے۔اجلاس میں شرکت کے خدشے کے پیش نظر پیشگی گرفتاری اور دہشت گردی کے دفعات لگا کر مقدمہ درج کر کے شبیر مایار کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے اسے دو بار جسمانی ریمانڈ پر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے حوالے کر دی گئی ہے، وہ 12 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر ہونگے۔
شبیر مایار کی گرفتاری اور اس پر قائم جھوٹا انسداد دہشت گردی کا مقدمہ اور اسے بار بار جسمانی ریمانڈ پر دینا گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کو سمجھنے کے لئے کافی ہے، شبیر مایار کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ بذات خود آئین پاکستان میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے اور ایک پر امن اور بیمار ادمی پر بغیر کسی جرم کے دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنا اس قانون کو غلط استعمال کرنے کا واغع ثبوت ہے۔
شبیر مایار کو ان کی عوامی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے کی پاداش میں دو سالوں سے اپنے ہی گھر میں نظر بند رکھا گیا تھا کچھ دن پہلے وہ دل کے عارضے میں شدید مبتلا ہونے کی وجہ سے گلگت شہر اپنی چیک اپ کے لئے آئے تھے وہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا، انہیں تھانے میں نہ اپنے وکلاء سے ملنے کی اجازت ہے اور نہ ہے طبعی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے،
شبیر مایار کی عمر 44 سال ہے، وہ بلتستان کی وادی کھرمنگ سے تعلق رکھتے ہیں،وہ گلگت بلتستان یونائیٹڈ مومنٹ کے چیف آرگنائزر ہیں، انہیں ممکنہ طور پر گلگت بلتستان میں اسمبلی کے لئے ہونے والے عام انتخابات سے چند ہفتے قبل گرفتار کیا گیا ہے اور ان کی سیاسی جماعت گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کے دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے، کیونکہ گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ آمادہ انتخابات میں بھر پور شرکت کر کے عوام کی نمایندگی کے لئے آگے بڑھ رہی تھی۔ چیف آرگنائزر کی گرفتاری اور دفتر کی بندش کے بعد قومی جماعت گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کی انتخابات میں شمولیت غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔
گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کے سکریٹری جنرل نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالی کو روکا جائے اور شبیر مایار سمیت گلگت بلتستان کے تمام سیاسی رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے تاکہ وہ عام انتخابات میں شامل ہو کر اپنے حق رائے دہی کو استعمال کر سکے، انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں گلگت بلتستان میں انسداد دہشت گردی کی قوانین کی پر امن شہریوں پر غلط استعمال کی بابت حکومت پاکستان کا مواخذہ کرے اور گلگت بلتستان کے سیاسی اسیروں کی رہائی کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔
Post a Comment